کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: علی بن دری حضرمی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جَنْدَلُ بْنُ وَالْقٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ دُرِّيِّ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ كِتَابٌ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِ أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ أَتَوْنِي يَخْتَصِمُونَ فِي غُلَامٍ وَطِئُوا أُمَّهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، كُلُّهُمْ يَدَّعِيهِ أَنَّهُ ابْنُهُ، فَقَضَيْتُ بَيْنَهُمْ أَنْ أَقْرَعْتُ بَيْنَهُمْ، وَجَعَلْتُهُ لِلْقَارِعِ مِنْهُمْ عَلَى أَنْ يَغْرَمَ لِلْآخَرَيْنِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَا نَاجِذَاهُ، ثُمَّ قَالَ: «لَا أَعْلَمُ فِيهَا إِلَّا مَا قَضَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا کہ آپ ﷺ کے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ایک خط آیا جس میں تھا کہ تین آدمی میرے پاس ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑتے ہوئے آئے، جس کی ماں سے انہوں نے جاہلیت میں ایک ہی طہر میں تعلق قائم کیا تھا، ہر ایک اس کا دعویٰ کرتا تھا کہ وہ اس کا بیٹا ہے۔ تو میں نے ان کے درمیان یہ فیصلہ کیا کہ ان کے درمیان قرعہ ڈالا، اور جس کے نام قرعہ نکلا اس کے لیے بچہ قرار دیا، اس شرط پر کہ وہ باقی دو کو دیت کے دو تہائی حصے ادا کرے۔ نبی کریم ﷺ اس قدر ہنسے کہ آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں، پھر فرمایا: ”اس معاملے میں میں اس کے سوا کچھ نہیں جانتا جو علی نے فیصلہ کیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4972
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 173، حدیث 4991
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ ذَرِيحٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی جو اوپر گزری۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4973
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 173، حدیث 4992
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ رَوَاحَةَ الرَّامَهُرْمُزِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَزْدِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا عَامِلًا عَلَى الْيَمَنِ، فَأُتِيَ بِرِكَازٍ فَأَخَذَ مِنْهُ الْخُمُسَ، وَدَفَعَ بَقِيَّتَهُ إِلَى صَاحِبِهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبَهُ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا عامل بنا کر بھیجا، تو ان کے پاس دفینہ (رکاز) لایا گیا، انہوں نے اس میں سے پانچواں حصہ لیا اور باقی اس کے مالک کو واپس کر دیا۔ یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ کو یہ بات پسند آئی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4974
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 174، حدیث 4993