کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: بسر بن سعید کی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَرَ حُجْرَةً حَسِبَهُ بِحَصِيرٍ، فَصَلَّى فِيهَا فَسَمِعَ بِذَلِكَ قَوْمٌ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: «مَا زَالَ بِكُمْ مَا رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ تُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، وَلَوْ كُتِبَتْ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهَا، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ»
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے چٹائی سے ایک حجرہ سا بنا لیا، اور اس میں نماز پڑھنے لگے۔ کچھ لوگوں کو اس کا علم ہوا تو وہ بھی شامل ہونے کے لیے کھنکھارنے لگے۔ آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تمہارے اس عمل نے مجھے یہاں تک پہنچا دیا کہ مجھے خدشہ ہوا کہ یہ نماز تم پر فرض کر دی جائے گی، اور اگر یہ فرض ہو جاتی تو تم اسے قائم نہ رکھ پاتے۔ اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ فرض نماز کے سوا آدمی کی بہترین نماز اس کے گھر میں ہوتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ جَبَلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ، قَالُوا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بَرَدَانَ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ فِي مَسْجِدِي إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ»
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کی اپنے گھر میں نماز میری مسجد میں پڑھی گئی نماز سے بہتر ہے، سوائے فرض نماز کے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي بُرْدَانُ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ثنا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: احْتَجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ فَكَانَ يُصَلِّي فِيهَا، فَرَآهُ رَجُلٌ فَصَلُّوا بِصَلَاتِهِ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ حَضَرُوهُ وَهُوَ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ، فَتَنَحْنَحُوا وَحَصَبُوا الْبَابَ، وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَتُكْتَبُ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ»
ترجمہ
… یہاں تک کہ ایک رات وہ حاضر ہوئے مگر آپ ﷺ ان کے پاس تشریف نہ لائے، تو انہوں نے کھنکھارنا اور دروازے پر کنکریاں مارنا شروع کر دیں اور اپنی آوازیں بلند کیں۔ رسول اللہ ﷺ ناراض ہو کر ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہارے اس عمل نے یہاں تک پہنچا دیا کہ مجھے گمان ہوا کہ یہ نماز فرض کر دی جائے گی، تو تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ فرض نماز کے سوا آدمی کی بہترین نماز اس کے گھر میں ہوتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَرَ حُجْرَةً فَكَانَ يُصَلِّي فِيهَا، فَفَطِنَ لَهُ أَصْحَابُهُ، فَكَانُوا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ»
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک حجرہ بنایا اور اس میں نماز پڑھنے لگے، تو صحابہ کو اس کا علم ہو گیا اور وہ بھی آپ ﷺ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین نماز آدمی کی اپنے گھر میں پڑھی گئی نماز ہے، سوائے فرض نماز کے۔“