حدیث نمبر: 4876
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ثنا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: احْتَجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ فَكَانَ يُصَلِّي فِيهَا، فَرَآهُ رَجُلٌ فَصَلُّوا بِصَلَاتِهِ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ حَضَرُوهُ وَهُوَ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ، فَتَنَحْنَحُوا وَحَصَبُوا الْبَابَ، وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَتُكْتَبُ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ»
ترجمہ

… یہاں تک کہ ایک رات وہ حاضر ہوئے مگر آپ ﷺ ان کے پاس تشریف نہ لائے، تو انہوں نے کھنکھارنا اور دروازے پر کنکریاں مارنا شروع کر دیں اور اپنی آوازیں بلند کیں۔ رسول اللہ ﷺ ناراض ہو کر ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہارے اس عمل نے یہاں تک پہنچا دیا کہ مجھے گمان ہوا کہ یہ نماز فرض کر دی جائے گی، تو تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ فرض نماز کے سوا آدمی کی بہترین نماز اس کے گھر میں ہوتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4876
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 144، حدیث 4895