المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بسر بن سعيد، عن زيد بن ثابت باب: بسر بن سعید کی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ثنا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: احْتَجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ فَكَانَ يُصَلِّي فِيهَا، فَرَآهُ رَجُلٌ فَصَلُّوا بِصَلَاتِهِ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ حَضَرُوهُ وَهُوَ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ، فَتَنَحْنَحُوا وَحَصَبُوا الْبَابَ، وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَتُكْتَبُ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ»سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں ایک حجرہ سا بنا لیا اور اس میں نماز پڑھنے لگے۔ ایک آدمی نے آپ ﷺ کو دیکھا تو لوگ بھی آپ ﷺ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگے، یہاں تک کہ ایک رات وہ حاضر ہوئے مگر آپ ﷺ ان کے پاس تشریف نہ لائے، تو انہوں نے کھنکھارنا اور دروازے پر کنکریاں مارنا شروع کر دیں اور اپنی آوازیں بلند کیں۔ رسول اللہ ﷺ ناراض ہو کر ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہارے اس عمل نے یہاں تک پہنچا دیا کہ مجھے گمان ہوا کہ یہ نماز فرض کر دی جائے گی، تو تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ فرض نماز کے سوا آدمی کی بہترین نماز اس کے گھر میں ہوتی ہے۔“