کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ابان بن عثمان بن عفان کی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ سُلَيْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَضَّرَ اللهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ فَبَلَّغَهُ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ»
" ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ أَبَدًا: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْأَمْرِ وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ "
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس شخص کو تر و تازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی، اسے یاد رکھا، پھر آگے پہنچا دیا، کیونکہ بسا اوقات فقہ کا حامل خود فقیہ نہیں ہوتا۔“
”تین چیزیں ایسی ہیں کہ کسی مسلمان کا دل کبھی ان میں دھوکا نہیں کھاتا: اللہ کے لیے عمل کو خالص کرنا، حکمرانوں کے لیے خیرخواہی، اور جماعت کے ساتھ رہنا، کیونکہ ان کی دعا ان کے پیچھے رہنے والوں کو گھیرے رہتی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4871
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 143، حدیث 4890
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ سُلَيْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ الْآخِرَةَ جَمَعَ اللهُ لَهُ شَمْلَهُ، وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا رَاغِمَةً، وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ الدُّنْيَا فَرَّقَ اللهُ عَلَيْهِ أَمْرَهُ، وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَهُ»
وَسُئِلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى؟ قَالَ: «هِي الْعَصْرُ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی نیت آخرت ہو، اللہ اس کے تمام معاملات جمع کر دیتا ہے، اس کی بے نیازی اس کے دل میں ڈال دیتا ہے، اور دنیا اپنی مرضی کے خلاف اس کے پاس چلی آتی ہے۔ اور جس کی نیت دنیا ہو، اللہ اس کے معاملات بکھیر دیتا ہے، اس کی محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے، اور اسے دنیا میں سے صرف وہی ملتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے لکھ دیا ہو۔“
اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے درمیانی نماز (صلاۃ الوسطیٰ) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”وہ عصر کی نماز ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4872
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 143، حدیث 4891