کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ کی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَقُولُ: " لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ رَجَعَ قَوْمٌ مِنَ الطَّرِيقِ، فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ، فِرْقَةٌ تَقُولُ: اقْبَلْهُمْ، وَفِرْقَةٌ تَقُولُ: لَا تَقْبَلْهُمْ " فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا} [النساء: ٨٨]
ترجمہ
عبداللہ بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: جب رسول اللہ ﷺ اُحد کی طرف نکلے تو کچھ لوگ راستے سے واپس لوٹ گئے، تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ان کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک گروہ کہتا تھا: انہیں قبول کر لو، اور دوسرا گروہ کہتا تھا: انہیں قبول مت کرو۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”تو تمہیں کیا ہو گیا کہ منافقوں کے بارے میں تم دو گروہ ہو گئے ہو، حالانکہ اللہ نے انہیں ان کے اعمال کے سبب الٹا پھیر دیا ہے“ [سورۃ النساء: 88]۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ} [النساء: ٨٨] قَالَ: كَانَ الْمُنَافِقُونَ وَأَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتٍ، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ: لَوَدِدْنَا أَنَّهُمْ بَرَزُوا لَنَا فَقَاتَلْنَاهُمْ، وَكَرِهَتْ طَائِفَةٌ ذَلِكَ حَتَّى عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِزَيْدٍ: " اكْتُبْهَا {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا} [النساء: ٨٨] "
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آیتِ کریمہ ”تو تمہیں کیا ہو گیا کہ منافقوں کے بارے میں تم دو گروہ ہو گئے ہو“ کے بارے میں فرماتے ہیں: منافقین اور نبی کریم ﷺ کے صحابہ ایک گھر میں تھے، ایک گروہ نے کہا: ہم چاہتے ہیں کہ یہ ہمارے سامنے آئیں تو ہم ان سے لڑیں، اور دوسرے گروہ نے اسے ناپسند کیا، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور زید سے فرمایا: ”یہ آیت لکھ لو: تو تمہیں کیا ہو گیا کہ منافقوں کے بارے میں تم دو گروہ ہو گئے ہو، حالانکہ اللہ نے انہیں ان کے اعمال کے سبب الٹا پھیر دیا ہے“ [سورۃ النساء: 88]۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَذُوعِيُّ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْيَمَانِ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا زَيْدُ، أَعْطِ زَكَاةَ رَأْسِكَ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا صَاعًا مِنْ حِنْطَةٍ»
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زید! لوگوں کے ساتھ اپنے سر (یعنی اپنی ذات) کی زکوٰۃ ادا کرو، چاہے تمہیں گندم کا ایک صاع ہی کیوں نہ ملے۔“