حدیث نمبر: 4787
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَقُولُ: " لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ رَجَعَ قَوْمٌ مِنَ الطَّرِيقِ، فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ، فِرْقَةٌ تَقُولُ: اقْبَلْهُمْ، وَفِرْقَةٌ تَقُولُ: لَا تَقْبَلْهُمْ " فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا} [النساء: ٨٨]
ترجمہ

عبداللہ بن یزید بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: جب رسول اللہ ﷺ اُحد کی طرف نکلے تو کچھ لوگ راستے سے واپس لوٹ گئے، تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ان کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک گروہ کہتا تھا: انہیں قبول کر لو، اور دوسرا گروہ کہتا تھا: انہیں قبول مت کرو۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”تو تمہیں کیا ہو گیا کہ منافقوں کے بارے میں تم دو گروہ ہو گئے ہو، حالانکہ اللہ نے انہیں ان کے اعمال کے سبب الٹا پھیر دیا ہے“ [سورۃ النساء: 88]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4787
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 120، حدیث 4804