❮
❯
حدیث نمبر: 4790
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَمِّهِ أَنَّ مَمْلُوكًا كَانَ يُقَالُ لَهُ كَيْسَانُ، فَسَمَّى نَفْسَهُ قَيْسًا وادَّعَى إِلَى مَوْلَاهِ وَلَحِقَ بِالْكُوفَةِ فَرَكِبَ أَبُوهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ابْنِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِي، ثُمَّ رَغِبَ عَنْي وادَّعَى إِلَى مَوْلَاهُ، وَمَوْلَايَ، وَقَالَ عُمَرُ لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَمَا تَعْلَمُ إِنَّا كُنَّا نَقْرَأُ لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ، فَقَالَ زَيْدٌ: بَلَى، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «انْطَلِقْ فَاقْرِنِ ابْنَكَ إِلَى بَعِيرِكَ، فَانْطَلِقْ فَاضْرِبْ بَعِيرَكَ سَوْطًا وَابْنَكَ سَوْطًا حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ أَهْلَكَ»
ترجمہ

ایک غلام تھا جسے کیسان کہا جاتا تھا۔ اس نے اپنا نام قیس رکھ لیا اور اپنے آزاد کرنے والے (آقا) کی طرف نسبت کر لی، اور کوفہ جا ملا۔ اس کے والد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سوار ہو کر آئے اور عرض کیا: اے امیرالمومنین! میرا بیٹا میرے بستر پر پیدا ہوا (یعنی میرا سگا بیٹا ہے)، پھر اس نے مجھ سے رغبت ہٹا کر اپنے آزاد کرنے والے کی طرف نسبت کر لی، جو میرا بھی آقا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم پڑھا کرتے تھے: ”اپنے باپوں سے بےرغبتی نہ کرو، کیونکہ یہ تمہاری طرف سے کفر ہے“؟ زید نے کہا: کیوں نہیں۔ عمر نے اس سے کہا: ”جاؤ، اپنے بیٹے کو اپنے اونٹ کے ساتھ باندھ لو، پھر چلو اور اپنے اونٹ کو ایک کوڑا اور اپنے بیٹے کو ایک کوڑا مارتے ہوئے اسے اپنے گھر والوں تک لے جاؤ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4790
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 121، حدیث 4807