کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا رکانہ بن عبدیزید بن ہاشم بن مطلب بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر رضی اللہ عنہ (ان کی والدہ بنت العجلان، بنو سعد بن لیث بن بکر بن کنانہ سے تھیں، کہا جاتا ہے کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور تک زندہ رہے)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَاوِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطْرَانِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعُ الزَّهْرَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ قَالُوا: ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ فَأَتَيْتُهُ فِي قَرْيَةٍ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ: «مَا نَوَيْتَ؟» قَالَ: وَاحِدَةً، قَالَ: «آللَّهُ» قَالَ: آللَّهِ قَالَ: «هُوَ مَا نَوَيْتَ»
ترجمہ
…انہوں نے مجھے اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے، بیان کیا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو 'البتہ' (قطعی) طلاق دے دی، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا اور فرمایا: ”تمہاری نیت کیا تھی؟“ انہوں نے کہا: ایک طلاق کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہی ہے جو تم نے نیت کی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ جَدِّهِ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ألْبَتَّةَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ فَقَالَ لَهُ: «مَا أَرَدْتَ بِهَا؟» قَالَ: وَاحِدَةً، قَالَ: «اللهِ مَا أَرَدْتَ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةً؟» قَالَ: اللهِ مَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِي وَاحِدَةٌ»
ترجمہ
عبداللہ بن علی بن سائب رحمہ اللہ اپنے دادا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو البتہ طلاق دے دی، تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اس سے تمہاری کیا مراد تھی؟“ انہوں نے کہا: ایک طلاق۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم، تمہاری مراد صرف ایک ہی طلاق تھی؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، میری مراد صرف ایک ہی طلاق تھی۔ تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”یہ ایک ہی طلاق ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ الْكِلَابِيُّ قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا بِمَكَّةَ مِنْ أَهْلِ عَسْقَلَانَ يُقَالُ لَهُ: أَبُو الْحَسَنِ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رُكَانَةَ صَارَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رُكَانَةُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فَرْقُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ»
ترجمہ
…رکانہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے کشتی لڑی تو نبی کریم ﷺ نے انہیں پچھاڑ دیا۔ سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق یہ ہے کہ ہم ٹوپیوں پر عمامے باندھتے ہیں۔“