المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ركانة بن عبد يزيد بن هاشم بن المطلب بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر " وأمه بنت العجلان، من بني سعد بن ليث بن بكر بن كنانة، يقال: إنه بقي إلى زمن عثمان بن عفان رضي الله عنهما " باب: سیدنا رکانہ بن عبدیزید بن ہاشم بن مطلب بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر رضی اللہ عنہ (ان کی والدہ بنت العجلان، بنو سعد بن لیث بن بکر بن کنانہ سے تھیں، کہا جاتا ہے کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور تک زندہ رہے)
حدیث نمبر: 4598
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ جَدِّهِ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ألْبَتَّةَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ فَقَالَ لَهُ: «مَا أَرَدْتَ بِهَا؟» قَالَ: وَاحِدَةً، قَالَ: «اللهِ مَا أَرَدْتَ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةً؟» قَالَ: اللهِ مَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِي وَاحِدَةٌ»ترجمہ
عبداللہ بن علی بن سائب رحمہ اللہ اپنے دادا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو البتہ طلاق دے دی، تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اس سے تمہاری کیا مراد تھی؟“ انہوں نے کہا: ایک طلاق۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم، تمہاری مراد صرف ایک ہی طلاق تھی؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، میری مراد صرف ایک ہی طلاق تھی۔ تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”یہ ایک ہی طلاق ہے۔“