کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ ﷺ سے روایت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبِ الْقُرْقُسَائِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، قَالُوا: ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ، قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ نَاسٌ يَسْتَأْذِنُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَأْذَنُ لَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ شِقِّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْغَضُ إِلَيْكُمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ؟» قَالَ: فَلَا تَرَى مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا، قَالَ: يَقُولُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ فِي نَفْسِي بَعْدَهَا لَسَفِيهٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: «أَشْهَدُ عِنْدَ اللهِ - وَكَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ - وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْكُمْ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللهِ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سَلَكَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ، وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَتَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَذُرِّيَّاتِكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ»
ثُمَّ قَالَ: " إِذَا مَضَى شِطْرُ اللَّيْلِ - أَوْ قَالَ: ثُلُثَاهُ - يَنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي غَيْرِي، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي أُعْطِيهِ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي أَسْتَجِيبُ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرُ لَهُ؟ حَتَّى يَنْصَدِعَ الْفَجْرُ "
ثُمَّ قَالَ: " إِذَا مَضَى شِطْرُ اللَّيْلِ - أَوْ قَالَ: ثُلُثَاهُ - يَنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي غَيْرِي، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي أُعْطِيهِ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي أَسْتَجِيبُ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرُ لَهُ؟ حَتَّى يَنْصَدِعَ الْفَجْرُ "
ترجمہ
…فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ واپس آ رہے تھے، تو کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھروں کو جانے کی اجازت مانگنے لگے، تو آپ ﷺ انہیں اجازت دیتے رہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس درخت کی وہ شاخ جو رسول اللہ ﷺ کے قریب ہے، تمہیں دوسری شاخ سے زیادہ ناپسند کیوں ہے؟“ راوی کہتے ہیں: تو لوگوں میں سے کوئی ایسا نہ رہا جو رو نہ رہا ہو۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو شخص اس کے بعد بھی آپ سے جانے کی اجازت مانگے وہ بےوقوف ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”میں اللہ کے حضور گواہی دیتا ہوں - اور جب قسم کھاتے تو یہ فرماتے - قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، تم میں سے جو بھی اللہ پر ایمان لائے پھر اس پر قائم رہے، اسے جنت کے راستے پر چلایا جائے گا، اور مجھ سے میرے رب عزوجل نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل کرے گا، اور مجھے امید ہے کہ وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ تم اور تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں، جنت میں مکانات پا لیں۔“
پھر فرمایا: ”جب رات کا آدھا حصہ - یا فرمایا: دو تہائی - گزر جاتا ہے تو اللہ عزوجل آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: میں اپنے بندوں کے بارے میں اپنے سوا کسی سے نہیں پوچھتا، ہے کوئی جو مجھ سے مانگے تو میں اسے دوں؟ ہے کوئی جو مجھے پکارے تو میں اس کی پکار سنوں؟ ہے کوئی جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخش دوں؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔“
پھر فرمایا: ”جب رات کا آدھا حصہ - یا فرمایا: دو تہائی - گزر جاتا ہے تو اللہ عزوجل آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: میں اپنے بندوں کے بارے میں اپنے سوا کسی سے نہیں پوچھتا، ہے کوئی جو مجھ سے مانگے تو میں اسے دوں؟ ہے کوئی جو مجھے پکارے تو میں اس کی پکار سنوں؟ ہے کوئی جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخش دوں؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رِفَاعَةَ بْنَ عَرَابَةَ الْجُهَنِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ نَاسٌ يَسْتَأْذِنُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْذَنُ لَهُمْ، فَقَالَ: «مَا بَالُ شِقِّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْغَضُ إِلَيْكُمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ؟» قَالَ: فَلَا تَرَى فِي الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ فِي نَفْسِي بَعْدَهَا لَسَفِيهٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: «أَشْهَدُ عِنْدَ اللهِ - وَكَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ - وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سُلِكَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ، وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي أنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَتَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَذَرَارِيِّكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ»
ثُمَّ قَالَ: " إِذَا مَضَى نِصْفُ اللَّيْلِ - أَوْ قَالَ: ثُلُثُ اللَّيْلِ - يَنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: مَنْ هَذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ مَنْ هَذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ هَذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ "
ثُمَّ قَالَ: " إِذَا مَضَى نِصْفُ اللَّيْلِ - أَوْ قَالَ: ثُلُثُ اللَّيْلِ - يَنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: مَنْ هَذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ مَنْ هَذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ هَذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ "
ترجمہ
سیدنا رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آ رہے تھے، تو کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگنے لگے، تو آپ ﷺ انہیں اجازت دیتے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس درخت کی وہ شاخ جو رسول اللہ ﷺ کے قریب ہے، تمہیں دوسری شاخ سے زیادہ ناپسند کیوں ہے؟“ راوی کہتے ہیں: تو لوگوں میں سے کوئی ایسا نہ رہا جو رو نہ رہا ہو، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو شخص اس کے بعد بھی آپ سے اجازت مانگے وہ بےوقوف ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”میں اللہ کے حضور گواہی دیتا ہوں - اور جب قسم کھاتے تو یہ فرماتے - قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اللہ پر ایمان لائے پھر قائم رہے مگر اسے جنت کے راستے پر چلایا جائے گا، اور مجھ سے میرے رب نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں بغیر حساب اور بغیر عذاب کے داخل کرے گا، اور مجھے امید ہے کہ وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ تم اور تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں، جنت میں مکانات پا لیں۔“
پھر فرمایا: ”جب آدھی رات - یا فرمایا: ایک تہائی رات - گزر جاتی ہے تو اللہ عزوجل آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: ہے کوئی جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخش دوں؟ ہے کوئی جو مجھے پکارے تو میں اس کی پکار سنوں؟ ہے کوئی جو مجھ سے مانگے تو میں اسے دوں؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔“
پھر فرمایا: ”جب آدھی رات - یا فرمایا: ایک تہائی رات - گزر جاتی ہے تو اللہ عزوجل آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: ہے کوئی جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخش دوں؟ ہے کوئی جو مجھے پکارے تو میں اس کی پکار سنوں؟ ہے کوئی جو مجھ سے مانگے تو میں اسے دوں؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ، جَعَلُوا يَسْتَأْذِنُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهَالِيهِمْ، فَيَأْذَنُ لَهُمْ. فَقَالَ: «مَا بَالُ شِقِّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْغَضُ إِلَيْكُمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ؟» فَلَمْ يُرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى خَيْرًا ثُمَّ قَالَ: «أَشْهَدُ عِنْدَ اللهِ لَا يَمُوتُ عَبْدٌ شَهِدَ شَهَادَةَ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ، ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سُلِكَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ، وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي أنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَدْخُلُوا حَتَّى تَتَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَذَرَارِيِّكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ»
وَقَالَ: " إِذَا مَضَى نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثُ اللَّيْلِ يَنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي غَيْرِي، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرُ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي أَسْتَجِيبُ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي أُعْطِيهِ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ "
وَقَالَ: " إِذَا مَضَى نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثُ اللَّيْلِ يَنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي غَيْرِي، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرُ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي أَسْتَجِيبُ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي أُعْطِيهِ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ "
ترجمہ
…فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آ رہے تھے یہاں تک کہ جب ہم کدید کے مقام پر پہنچے تو لوگ رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھر والوں کی طرف جانے کی اجازت مانگنے لگے، تو آپ ﷺ انہیں اجازت دیتے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس درخت کی وہ شاخ جو رسول اللہ ﷺ کے قریب ہے، تمہیں دوسری شاخ سے زیادہ ناپسند کیوں ہے؟“ اس کے بعد لوگوں میں سے کوئی ایسا نظر نہ آیا جو رو نہ رہا ہو، تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! جو شخص اس کے بعد بھی آپ سے اجازت مانگے وہ بےوقوف ہے۔ تو آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”میں اللہ کے حضور گواہی دیتا ہوں کہ کوئی بندہ اس حالت میں فوت نہیں ہوتا کہ اس نے دل سے سچائی کے ساتھ گواہی دی ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، پھر وہ اس پر قائم رہے، مگر اسے جنت کے راستے پر چلایا جائے گا، اور مجھ سے میرے رب نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں بغیر حساب اور بغیر عذاب کے داخل کرے گا، اور مجھے امید ہے کہ تم اس میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ تم اور تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں، جنت میں مکانات پا لو۔“
اور فرمایا: ”جب آدھی رات یا ایک تہائی رات گزر جاتی ہے تو اللہ عزوجل آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، تو فرماتا ہے: میں اپنے بندوں کے بارے میں اپنے سوا کسی سے نہیں پوچھتا، ہے کوئی جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخش دوں؟ ہے کوئی جو مجھے پکارے تو میں اس کی پکار سنوں؟ ہے کوئی جو مجھ سے مانگے تو میں اسے دوں؟ یہاں تک کہ صبح روشن ہو جاتی ہے۔“
اور فرمایا: ”جب آدھی رات یا ایک تہائی رات گزر جاتی ہے تو اللہ عزوجل آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، تو فرماتا ہے: میں اپنے بندوں کے بارے میں اپنے سوا کسی سے نہیں پوچھتا، ہے کوئی جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخش دوں؟ ہے کوئی جو مجھے پکارے تو میں اس کی پکار سنوں؟ ہے کوئی جو مجھ سے مانگے تو میں اسے دوں؟ یہاں تک کہ صبح روشن ہو جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ - قَالَ أَبُو مُوسَى: هَكَذَا قَالَ مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ وَهُوَ ابْنُ عَرَابَةَ - أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ - أَوْ قَالَ بِقُدَيْدٍ - جَعَلَ رِجَالٌ مِنَّا يَسْتَأْذِنُونَ إِلَى أَهَالِيهِمْ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ ،
ترجمہ
…فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آ رہے تھے یہاں تک کہ جب ہم کدید - یا فرمایا: قدید - کے مقام پر پہنچے تو ہم میں سے کچھ لوگ اپنے گھر والوں کی طرف جانے کی اجازت مانگنے لگے، تو رسول اللہ ﷺ انہیں اجازت دیتے رہے - پھر راوی نے اسی جیسی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ الْحَبَطِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا رفاعہ بن عرابہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آ رہے تھے یہاں تک کہ جب ہم کدید کے مقام پر پہنچے - پھر راوی نے اسی جیسی حدیث بیان کی۔