حدیث نمبر: 4541
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبِ الْقُرْقُسَائِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، قَالُوا: ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ، قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ نَاسٌ يَسْتَأْذِنُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَأْذَنُ لَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ شِقِّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْغَضُ إِلَيْكُمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ؟» قَالَ: فَلَا تَرَى مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا، قَالَ: يَقُولُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ فِي نَفْسِي بَعْدَهَا لَسَفِيهٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: «أَشْهَدُ عِنْدَ اللهِ - وَكَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ - وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْكُمْ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللهِ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سَلَكَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ، وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَتَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَذُرِّيَّاتِكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ»
ثُمَّ قَالَ: " إِذَا مَضَى شِطْرُ اللَّيْلِ - أَوْ قَالَ: ثُلُثَاهُ - يَنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي غَيْرِي، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي أُعْطِيهِ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي أَسْتَجِيبُ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرُ لَهُ؟ حَتَّى يَنْصَدِعَ الْفَجْرُ "
ترجمہ

…فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ واپس آ رہے تھے، تو کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھروں کو جانے کی اجازت مانگنے لگے، تو آپ ﷺ انہیں اجازت دیتے رہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس درخت کی وہ شاخ جو رسول اللہ ﷺ کے قریب ہے، تمہیں دوسری شاخ سے زیادہ ناپسند کیوں ہے؟“ راوی کہتے ہیں: تو لوگوں میں سے کوئی ایسا نہ رہا جو رو نہ رہا ہو۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو شخص اس کے بعد بھی آپ سے جانے کی اجازت مانگے وہ بےوقوف ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”میں اللہ کے حضور گواہی دیتا ہوں - اور جب قسم کھاتے تو یہ فرماتے - قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، تم میں سے جو بھی اللہ پر ایمان لائے پھر اس پر قائم رہے، اسے جنت کے راستے پر چلایا جائے گا، اور مجھ سے میرے رب عزوجل نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل کرے گا، اور مجھے امید ہے کہ وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ تم اور تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں، جنت میں مکانات پا لیں۔“
پھر فرمایا: ”جب رات کا آدھا حصہ - یا فرمایا: دو تہائی - گزر جاتا ہے تو اللہ عزوجل آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: میں اپنے بندوں کے بارے میں اپنے سوا کسی سے نہیں پوچھتا، ہے کوئی جو مجھ سے مانگے تو میں اسے دوں؟ ہے کوئی جو مجھے پکارے تو میں اس کی پکار سنوں؟ ہے کوئی جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخش دوں؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4541
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 49، حدیث 4556