المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رفاعة بن عرابة الجهني، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم باب: سیدنا رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ ﷺ سے روایت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ، جَعَلُوا يَسْتَأْذِنُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهَالِيهِمْ، فَيَأْذَنُ لَهُمْ. فَقَالَ: «مَا بَالُ شِقِّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْغَضُ إِلَيْكُمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ؟» فَلَمْ يُرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى خَيْرًا ثُمَّ قَالَ: «أَشْهَدُ عِنْدَ اللهِ لَا يَمُوتُ عَبْدٌ شَهِدَ شَهَادَةَ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ، ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سُلِكَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ، وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي أنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَدْخُلُوا حَتَّى تَتَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَذَرَارِيِّكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ»
وَقَالَ: " إِذَا مَضَى نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثُ اللَّيْلِ يَنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي غَيْرِي، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرُ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي أَسْتَجِيبُ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي أُعْطِيهِ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ "…فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آ رہے تھے یہاں تک کہ جب ہم کدید کے مقام پر پہنچے تو لوگ رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھر والوں کی طرف جانے کی اجازت مانگنے لگے، تو آپ ﷺ انہیں اجازت دیتے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس درخت کی وہ شاخ جو رسول اللہ ﷺ کے قریب ہے، تمہیں دوسری شاخ سے زیادہ ناپسند کیوں ہے؟“ اس کے بعد لوگوں میں سے کوئی ایسا نظر نہ آیا جو رو نہ رہا ہو، تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! جو شخص اس کے بعد بھی آپ سے اجازت مانگے وہ بےوقوف ہے۔ تو آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”میں اللہ کے حضور گواہی دیتا ہوں کہ کوئی بندہ اس حالت میں فوت نہیں ہوتا کہ اس نے دل سے سچائی کے ساتھ گواہی دی ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، پھر وہ اس پر قائم رہے، مگر اسے جنت کے راستے پر چلایا جائے گا، اور مجھ سے میرے رب نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں بغیر حساب اور بغیر عذاب کے داخل کرے گا، اور مجھے امید ہے کہ تم اس میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ تم اور تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں، جنت میں مکانات پا لو۔“
اور فرمایا: ”جب آدھی رات یا ایک تہائی رات گزر جاتی ہے تو اللہ عزوجل آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، تو فرماتا ہے: میں اپنے بندوں کے بارے میں اپنے سوا کسی سے نہیں پوچھتا، ہے کوئی جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخش دوں؟ ہے کوئی جو مجھے پکارے تو میں اس کی پکار سنوں؟ ہے کوئی جو مجھ سے مانگے تو میں اسے دوں؟ یہاں تک کہ صبح روشن ہو جاتی ہے۔“