حدیث نمبر: 4542
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رِفَاعَةَ بْنَ عَرَابَةَ الْجُهَنِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ نَاسٌ يَسْتَأْذِنُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْذَنُ لَهُمْ، فَقَالَ: «مَا بَالُ شِقِّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْغَضُ إِلَيْكُمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ؟» قَالَ: فَلَا تَرَى فِي الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ فِي نَفْسِي بَعْدَهَا لَسَفِيهٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: «أَشْهَدُ عِنْدَ اللهِ - وَكَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ - وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سُلِكَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ، وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي أنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَتَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَذَرَارِيِّكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ»
ثُمَّ قَالَ: " إِذَا مَضَى نِصْفُ اللَّيْلِ - أَوْ قَالَ: ثُلُثُ اللَّيْلِ - يَنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: مَنْ هَذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ مَنْ هَذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ هَذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ "
ترجمہ

سیدنا رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آ رہے تھے، تو کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگنے لگے، تو آپ ﷺ انہیں اجازت دیتے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس درخت کی وہ شاخ جو رسول اللہ ﷺ کے قریب ہے، تمہیں دوسری شاخ سے زیادہ ناپسند کیوں ہے؟“ راوی کہتے ہیں: تو لوگوں میں سے کوئی ایسا نہ رہا جو رو نہ رہا ہو، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو شخص اس کے بعد بھی آپ سے اجازت مانگے وہ بےوقوف ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”میں اللہ کے حضور گواہی دیتا ہوں - اور جب قسم کھاتے تو یہ فرماتے - قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اللہ پر ایمان لائے پھر قائم رہے مگر اسے جنت کے راستے پر چلایا جائے گا، اور مجھ سے میرے رب نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں بغیر حساب اور بغیر عذاب کے داخل کرے گا، اور مجھے امید ہے کہ وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ تم اور تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں، جنت میں مکانات پا لیں۔“
پھر فرمایا: ”جب آدھی رات - یا فرمایا: ایک تہائی رات - گزر جاتی ہے تو اللہ عزوجل آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: ہے کوئی جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخش دوں؟ ہے کوئی جو مجھے پکارے تو میں اس کی پکار سنوں؟ ہے کوئی جو مجھ سے مانگے تو میں اسے دوں؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4542
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 50، حدیث 4557