کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: بشیر بن یسار کی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: التَّمْرُ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ "
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا، اور مزابنہ درخت پر لگی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا ہے، سوائے اہلِ عرایا کے، جنہیں اس کی اجازت دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا دُحَيْمٌ، قَالَا: أَنْبَأَ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ يَشْتَرِيَهَا أَهْلُهَا بِخَرْصِهَا بِتَمْرٍ يَأْكُلُونَهُ» .
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے تازہ کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، اور عریہ میں اجازت دی کہ اس کے مالک اسے اندازے کے مطابق اس کھجور کے عوض خرید لیں جسے وہ کھا سکیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَالَةَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حَسَّابٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فِي الْقَسَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے قسامہ کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَا: خَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ، تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَاكَ، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ قَتِيلٌ، فَدَفَنَهُ مُحَيِّصَةُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكِبْرَ» ، فَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ وَتَكَلَّمَ مَعَهُمَا، ثُمَّ ذَكَرُوا لَهُ مَقْتَلَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ أَنَّهُ قَاتَلَ صَاحِبَكُمْ؟» قَالُوا: كَيْفَ نَحْلِفُ عَلَى مَا لَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ: «فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا» ، قَالُوا: كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ؟ فَوَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى ذَلِكَ
ترجمہ
…وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، وہ اور حویصہ ابنا مسعود، اور عبدالرحمن بن سہل بھی تھے۔ عبدالرحمن بات کرنے لگے، حالانکہ وہ سب سے چھوٹے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بڑوں کو (بات کرنے دو)۔“ تو ان کے دونوں ساتھیوں نے بات کی اور وہ بھی ان کے ساتھ بولے۔ پھر انہوں نے آپ ﷺ کو عبداللہ بن سہل کے قتل کا واقعہ بتایا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے کہ فلاں نے تمہارے ساتھی کو قتل کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم اس بات پر کیسے قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا ہی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر یہود پچاس قسمیں کھا کر اپنی برأت ثابت کر دیں گے۔“ انہوں نے عرض کیا: ہم کافر قوم کی قسموں کو کیسے قبول کریں؟ تو نبی کریم ﷺ نے یہ صورتحال دیکھ کر اپنی طرف سے دیت ادا فرما دی۔