کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ابونجاشی عطاء بن صہیب، سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمَقْدِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابَلُتِّيُّ، قَالُوا: ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، ثُمَّ نَنْحَرُ الْجَزُورَ فَنَقْسِمُ ثُمَّ نَطْبُخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے، پھر اونٹ ذبح کرتے اور اسے تقسیم کرتے، پھر پکاتے اور سورج غروب ہونے سے پہلے پکا ہوا گوشت کھا لیتے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4406
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 279، حدیث 4421
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابَلُتِّيُّ، قَالُوا: ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مغرب کی نماز پڑھتے، تو ہم میں سے کوئی نماز سے فارغ ہو کر واپس ہوتا تو وہ اپنے تیروں کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4407
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 280، حدیث 4422
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ، مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: صَحِبْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ سِتَّ سِنِينَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّهُ لَقِيَهُ يَوْمًا، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، قَالَ رَافِعٌ: فَقُلْتُ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الْحَقُّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتَ مَحَاقِلَتِكُمْ مَاذَا تَصْنَعُونَ بِهَا؟» قُلْنَا: نُؤْجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَعَلَى الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا أَوْ أَمْسِكُوهَا»
ترجمہ
…رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے فائدہ مند تھا۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: جو کچھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہی حق ہے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری زمینوں کے بارے میں بتاؤ کہ تم ان کے ساتھ کیا کرتے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: ہم انہیں چوتھائی پیداوار یا کھجور اور جو کے چند وسق کے عوض کرایہ پر دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، خود کاشت کرو، یا کسی اور سے کاشت کراؤ، یا خالی چھوڑ دو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4408
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 280، حدیث 4423
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا الْمَنْصُورُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُؤَبِّرُونَ النَّخْلَ - يَقُولُ يُلَقِّحُونَ - قَالَ: «مَا تَصْنَعُونَ؟» قَالُوا: كُنَّا نَصْنَعُهُ قَالَ: «لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا» فَتَرَكُوهَا فَشِيصَتْ فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دُنْيَاكُمْ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگ کھجور کے درختوں کی تابیر (پیوند کاری) کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تم کیا کر رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہم یہی کیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم یہ نہ کرو تو بہتر ہوگا۔“ تو انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا، جس سے کھجوریں خراب نکلیں۔ یہ بات آپ ﷺ سے ذکر کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو ایک بشر ہی ہوں، پس جب میں تمہیں تمہارے دین کی کوئی بات بتاؤں تو اسے اختیار کرو، اور جب میں تمہیں تمہاری دنیا کی کوئی بات بتاؤں تو یاد رکھو کہ میں محض ایک بشر ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4409
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 280، حدیث 4424