حدیث نمبر: 4413
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَا: خَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ، تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَاكَ، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ قَتِيلٌ، فَدَفَنَهُ مُحَيِّصَةُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكِبْرَ» ، فَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ وَتَكَلَّمَ مَعَهُمَا، ثُمَّ ذَكَرُوا لَهُ مَقْتَلَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ أَنَّهُ قَاتَلَ صَاحِبَكُمْ؟» قَالُوا: كَيْفَ نَحْلِفُ عَلَى مَا لَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ: «فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا» ، قَالُوا: كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ؟ فَوَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى ذَلِكَ
ترجمہ

…وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، وہ اور حویصہ ابنا مسعود، اور عبدالرحمن بن سہل بھی تھے۔ عبدالرحمن بات کرنے لگے، حالانکہ وہ سب سے چھوٹے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بڑوں کو (بات کرنے دو)۔“ تو ان کے دونوں ساتھیوں نے بات کی اور وہ بھی ان کے ساتھ بولے۔ پھر انہوں نے آپ ﷺ کو عبداللہ بن سہل کے قتل کا واقعہ بتایا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے کہ فلاں نے تمہارے ساتھی کو قتل کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم اس بات پر کیسے قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا ہی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر یہود پچاس قسمیں کھا کر اپنی برأت ثابت کر دیں گے۔“ انہوں نے عرض کیا: ہم کافر قوم کی قسموں کو کیسے قبول کریں؟ تو نبی کریم ﷺ نے یہ صورتحال دیکھ کر اپنی طرف سے دیت ادا فرما دی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4413
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 281، حدیث 4428