المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو النجاشي عطاء بن صهيب مولى رافع، عن رافع باب: ابونجاشی عطاء بن صہیب، سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ، مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: صَحِبْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ سِتَّ سِنِينَ فَحَدَّثَنِي، عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّهُ لَقِيَهُ يَوْمًا، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، قَالَ رَافِعٌ: فَقُلْتُ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الْحَقُّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتَ مَحَاقِلَتِكُمْ مَاذَا تَصْنَعُونَ بِهَا؟» قُلْنَا: نُؤْجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَعَلَى الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا أَوْ أَمْسِكُوهَا»ابونجاشی عطاء بن صہیب رحمہ اللہ، جو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، کہتے ہیں: میں چھ سال تک سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا، تو انہوں نے مجھے اپنے چچا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ وہ ایک دن ان سے ملے اور ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے فائدہ مند تھا۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: جو کچھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہی حق ہے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری زمینوں کے بارے میں بتاؤ کہ تم ان کے ساتھ کیا کرتے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: ہم انہیں چوتھائی پیداوار یا کھجور اور جو کے چند وسق کے عوض کرایہ پر دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، خود کاشت کرو، یا کسی اور سے کاشت کراؤ، یا خالی چھوڑ دو۔“