المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو النجاشي عطاء بن صهيب مولى رافع، عن رافع باب: ابونجاشی عطاء بن صہیب، سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حدیث نمبر: 4409
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا الْمَنْصُورُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُؤَبِّرُونَ النَّخْلَ - يَقُولُ يُلَقِّحُونَ - قَالَ: «مَا تَصْنَعُونَ؟» قَالُوا: كُنَّا نَصْنَعُهُ قَالَ: «لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا» فَتَرَكُوهَا فَشِيصَتْ فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دُنْيَاكُمْ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ»ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگ کھجور کے درختوں کی تابیر (پیوند کاری) کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تم کیا کر رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہم یہی کیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم یہ نہ کرو تو بہتر ہوگا۔“ تو انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا، جس سے کھجوریں خراب نکلیں۔ یہ بات آپ ﷺ سے ذکر کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو ایک بشر ہی ہوں، پس جب میں تمہیں تمہارے دین کی کوئی بات بتاؤں تو اسے اختیار کرو، اور جب میں تمہیں تمہاری دنیا کی کوئی بات بتاؤں تو یاد رکھو کہ میں محض ایک بشر ہوں۔“