حدیث نمبر: 4401
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ هُرَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ وَهُوَ مُزْدَرِعٌ، فَسَأَلَهُ عَنْهَا فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْأَرْضَ لِآلِ أُسَيْدٍ، فَكَارَاهَا مِنْهُمْ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ يَأْخُذَ كِرَاءَهُ مِنْهُمْ وَيُؤَدِّيَ إِلَيْهِمْ إِتَاءَ أَرْضِهِمْ» . «وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ» . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: " وَالْإِتَاءُ: هُوَ الْقِيمَةُ، قِيمَةُ مَا يَخْرُجُ "
ترجمہ

…نبی کریم ﷺ اس (سیدنا رافع رضی اللہ عنہ) کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کھیتی کر رہے تھے، آپ ﷺ نے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ زمین آلِ اسید کی ہے، اور انہوں نے اسے ان سے کرایہ پر لیا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان سے اپنا کرایہ وصول کر کے انہیں ان کی زمین کی پیداوار کی قیمت ادا کر دیں۔ - یہ الفاظ احمد بن صالح کے ہیں - احمد بن صالح کہتے ہیں: اِتاء سے مراد قیمت ہے، یعنی جو کچھ پیدا ہو اس کی قیمت۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4401
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 278، حدیث 4416