حدیث نمبر: 4402
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا رِفَاعَةُ بْنُ هُرَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جِئْتُ أَنَا وِالْخَطْمِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ بَدْرًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ مَعَكَ، فَجَعَلَ يَقْبِضُ يَدَهُ وَيَقُولُ: «إِنِّي أَسْتَصْغِرُكَ، وَلَا أَدْرِي مَا تَصْنَعُ إِذَا لَقِيتَ الْقَوْمَ؟» ، فَقُلْتُ: أَتَعْلَمُ أَنْ أَرْمِيَ مَنْ رَمَى؟، فَرَدَّنِي فَلَمْ أَشْهَدْ بَدْرًا
ترجمہ

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور خطمی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، جبکہ آپ ﷺ غزوہ بدر کا ارادہ رکھتے تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بھی آپ کے ساتھ نکلنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ میرا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے: ”میں تمہیں چھوٹا سمجھتا ہوں، اور مجھے معلوم نہیں کہ اگر تمہارا دشمن سے سامنا ہو تو تم کیا کرو گے۔“ میں نے عرض کیا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں (تیر) پھینکنے والے کو جواباً تیر مار سکتا ہوں؟ لیکن آپ ﷺ نے مجھے واپس بھیج دیا، تو میں بدر میں شریک نہ ہو سکا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4402
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 278، حدیث 4417