حدیث نمبر: 4357
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ رَافِعٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَافِعًا أَتَى عَشِيرَتَهُ فَقَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا، وَفِي أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَكَةٌ وَرُشْدٌ» ، فَقَالُوا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: «الْحَقْلُ» . فَقُلْتُ لِأُسَيْدٍ: وَمَا الْحَقْلُ؟ قَالَ: «كَرْيُ الْأَرْضِ» ، فَقُلْتُ: وَكَيْفَ كَانُوا يُكْرُونَهَا؟ قَالَ: «بِالْأَرْبِعَاءِ وَبِالشَّيْءِ مِنَ الْحَصِيدِ»
ترجمہ

اسید بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے پاس آئے اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے نرمی کا باعث تھا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے حکم میں برکت اور بھلائی ہے۔“ لوگوں نے کہا: وہ کیا ہے؟ فرمایا: ”حقل۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے اسید سے پوچھا: حقل کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”زمین کرایہ پر دینا۔“ میں نے پوچھا: وہ کس طرح کرایہ پر دیتے تھے؟ فرمایا: ”نالیوں کے کنارے اور فصل کے کچھ حصے کے عوض۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4357
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 266، حدیث 4372