کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا ذؤیب بن قبیصہ خزاعی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوقبیصہ بن ذؤیب الفقیہ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ الشِّبَامِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ذُؤَيْبٍ الْخُزَاعِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِبَدَنَةٍ فَقَالَ: «إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ فَخَشِتَ مَوْتَهَا فَانْحَرْهَا، ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اضْرِبْ بِهَا صَفْحَتَهَا وَلَا تَطْعَمْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ وَاقْسِمْهَا»
ترجمہ
سیدنا ذؤیب خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ ایک قربانی کا اونٹ بھیجا اور فرمایا: ”اگر اس میں سے کوئی زخمی ہو جائے اور تمہیں اس کے مرنے کا خدشہ ہو تو اسے ذبح کر دینا، پھر اس کی جوتی اس کے خون میں ڈبو کر اس کے پہلو پر مار دینا، اور نہ تم اس میں سے کھانا، نہ تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی، بلکہ اسے تقسیم کر دینا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الذال / حدیث: 4197
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 229، حدیث 4212
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالُوا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ذُؤَيْبًا الْخُزَاعِيَّ، حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ مَعَهُ بِالْبُدْنِ ثُمَّ يَقُولُ: «إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ فَخَشِيتَ مَوْتًا فَانْحَرْهَا، ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اضْرِبْ بِهَا صَفْحَتَهَا وَلَا تَطْعَمْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ وَاقْسِمْهَا» . وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ: ذُؤَيْبُ بْنُ قَبِيصَةَ
ترجمہ
سیدنا ذؤیب خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ قربانی کے اونٹ بھیجا کرتے تھے، پھر فرماتے: ”اگر ان میں سے کوئی زخمی ہو جائے اور تمہیں اس کی موت کا خدشہ ہو تو اسے ذبح کر دینا، پھر اس کی جوتی اس کے خون میں ڈبو کر اس کے پہلو پر مار دینا، اور نہ تم اس میں سے کھانا، نہ تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی، بلکہ اسے تقسیم کر دینا۔“ (یہ الفاظ یزید بن زریع کی روایت کے ہیں، اور خالد بن حارث نے 'ذؤیب بن قبیصہ' کہا ہے۔)
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الذال / حدیث: 4198
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 230، حدیث 4213
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي ذُؤَيْبٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَضَرَ قَالَتْ صَفِيَّةُ: يَا رَسُولَ اللهِ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِكَ أَهْلٌ يُلْجَأُ إِلَيْهِمْ وَإِنَّكَ أَجْلَيْتَ أَهْلِي، فَإِنْ حَدَثَ حَدَثٌ فَإِلَى مَنْ؟ قَالَ: «إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
...جب نبی کریم ﷺ کی وفات کا وقت قریب آیا تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی ازواج میں سے ہر ایک کے میکے والے ہیں جن کی طرف وہ رجوع کر سکتی ہے، جبکہ آپ نے میرے میکے والوں کو جلاوطن کر دیا ہے، اگر کوئی معاملہ پیش آئے تو میں کس کی طرف رجوع کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الذال / حدیث: 4199
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 230، حدیث 4214