کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: افلح، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی اپنے آقا سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالُوا: ثنا هُشَيْمٌ، أَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَفْلَحَ، مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: «بِئْسَ مَالِي إِنْ كَانَ مَهْنَؤُهُ لَكُمْ ومَأْثَمُهُ عَلَيَّ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَيَأْمُرُ بِهِ وَلَكِنِّي حُبِّبَ إِلَيَّ الْوُضُوءُ»
ترجمہ
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیتے تھے مگر خود اپنے پاؤں دھوتے تھے، تو ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ تو میرا برا حصہ ہوا، اگر اس کا فائدہ تمہارے لیے ہو اور اس کا گناہ مجھ پر ہو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو موزوں پر مسح کرتے اور اس کا حکم دیتے دیکھا ہے، لیکن مجھے وضو زیادہ پسند ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3967
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 152، حدیث 3982
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ، ثنا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا شُعَيْبٍ، يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، ثنا أَفْلَحُ، غُلَامُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ»
ترجمہ
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے اور موزوں اور دستار پر مسح کرتے دیکھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3968
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 153، حدیث 3983
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَفْلَحَ، مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّفْلِ، وَأَبُو أَيُّوبَ فِي الْعُلُوِّ فَانْتَبَهَ أَبُو أَيُّوبَ لَيْلَةً، فَقَالَ: أَنَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «السُّفْلُ أَرْفَقُ بِنَا» قَالَ: وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ إِذَا بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْ مَوَاضِعِ أَثَرِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ بِطَعَامٍ فِيهِ ثُومٌ، فَلَمْ يَرَ فِيهِ أَثَرَ مَوْضِعِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَرَامٌ هُوَ؟، قَالَ: «لَا، وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ» ، فَقَالَ: إِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ، أَوْ مَا تَكْرَهُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى
ترجمہ
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کے ہاں ٹھہرے، تو نبی کریم ﷺ نچلی منزل میں ٹھہرے اور ابوایوب رضی اللہ عنہ بالائی منزل میں۔ ایک رات ابوایوب رضی اللہ عنہ جاگ اٹھے اور کہا: کیا ہم رسول اللہ ﷺ کے سر کے اوپر چلتے پھریں؟ تو وہ نیچے نبی کریم ﷺ کے پاس گئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نیچے رہنا ہمارے لیے آسان ہے۔“ راوی کہتے ہیں: اور ابوایوب رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ ﷺ کی طرف کھانا بھیجتے تو آپ ﷺ کی انگلیوں کے نشان کی جگہ پوچھتے۔ ایک بار ابوایوب رضی اللہ عنہ نے آپ کی طرف لہسن والا کھانا بھیجا، تو انہیں اس میں رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کا نشان نہ ملا، تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن مجھے یہ ناپسند ہے۔“ تو انہوں نے کہا: جو آپ نے ناپسند کیا میں بھی اسے ناپسند کرتا ہوں - یا جسے آپ ناپسند کرتے ہیں۔ اور نبی کریم ﷺ کے پاس (فرشتہ) آیا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3969
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 153، حدیث 3984
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَشْجَعِيُّ، ثنا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَفْلَحَ، مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ مَرَّ بِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ وَهُمَا قَاعِدَانِ عِنْدَ مَسْجِدِ الْجَنَائِزِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَذْكُرُ حَدِيثَنَا، حَدَّثَنَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَجْلِسِ الَّذِي نَحْنُ فِيهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، عَنِ الْمَدِينَةِ سَمِعْتُهُ وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُفْتَحُ فِيهِ فَتَحَاتُ الْأَرْضِ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهَا رِجَالٌ يُصِيبُونَ رَخَاءً وعَيْشًا وَطَعَامًا فَيَمُرُّونَ عَلَى إِخْوَانٍ لَهُمْ حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا فَيَقُولُونَ: مَا يُقِيمُكُمْ فِي لَأْوَاءِ الْعَيْشِ وَشِدَّةِ الْجُوعِ؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَذَاهِبٌ وَقَاعِدٌ - حَتَّى قَالَهَا مِرَارًا - وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَا يُثْبُتُ بِهَا أَحَدٌ فَيَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا، حَتَّى يَمُوتَ إِلَّا كُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا»
ترجمہ
افلح مولیٰ ابوایوب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے جبکہ وہ دونوں مسجد الجنائز کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: کیا تمہیں وہ حدیث یاد ہے جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اسی مجلس میں بیان فرمائی تھی جس میں ہم بیٹھے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، مدینہ کے بارے میں۔ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا جس میں زمین کے علاقے فتح ہوں گے، تو کچھ لوگ ان کی طرف نکل جائیں گے اور وہاں آسائش، خوشحال زندگی اور کھانا پائیں گے، پھر وہ اپنے ان بھائیوں کے پاس سے گزریں گے جو حج یا عمرہ کرنے آئے ہوں گے تو ان سے کہیں گے: تمہیں تنگیٔ معاش اور شدید بھوک میں کس چیز نے روک رکھا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو کوئی جانے والا ہو گا اور کوئی بیٹھا رہنے والا“ - آپ ﷺ نے یہ بات کئی بار دہرائی - ”اور مدینہ ان کے لیے بہتر ہے، جو کوئی بھی اس میں جم کر رہے اور اس کی تنگی اور سختی پر صبر کرے یہاں تک کہ مر جائے، تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی ہوں گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3970
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 153، حدیث 3985
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ غُلَامِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ عَلَى أَبِي أَيُّوبَ فَأُنْزِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّفْلَ، وَنَزَلَ أَبُو أَيُّوبَ الْعُلُوَّ، فَلَمَّا أَمْسَى وَبَاتَ، فَجَعَلَ أَبُو أَيُّوبَ يَذْكُرُ أَنَّهُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ مِنْهُ، وَهُوَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْوَحْيِ، فَجَعَلَ أَبُو أَيُّوبَ لَا يَنَامُ يُحَاذِرُ أَنْ يَتَنَاثَرَ عَلَيْهِ الْغُبَارُ ويَتَحَرَّكُ فَيُؤْذِيَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا جَعَلْتُ اللَّيْلَةَ فِيهَا غَمْضًا أَنَا وَلَا أُمُّ أَيُّوبَ، قَالَ: «وَمِمَّ ذَاكَ يَا أَبَا أَيُّوبَ؟» ، قَالَ: ذَكَرْتُ أَنِّي عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ أَنْتَ أَسْفَلَ مِنِّي، فَأَتَحَرَّكُ فَيَتَنَاثَرُ عَلَيْكَ الْغُبَارُ، ويُؤْذِيكَ تَحْرِيكِي، وَأَنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْوَحْيِ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلْ يَا أَبَا أَيُّوبَ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ بِالْغَدَاةِ عَشْرَ مَرَّاتٍ وبِالْعَشِيِّ عَشْرَ مَرَّاتٍ أُعْطِيتَ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَكُفِّرَ لَكَ بِهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَكَ بِهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكُنَّ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَعِدْلِ عَشْرٍ مُحَرَّرِينَ، تَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ لَا شَرِيكَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ابوایوب کے ہاں ٹھہرے، رسول اللہ ﷺ کو نچلی منزل میں ٹھہرایا گیا اور ابوایوب بالائی منزل میں رہے۔ جب شام ہوئی اور رات گزارنے لگے تو ابوایوب کو یہ خیال آنے لگا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے گھر کی چھت پر ہیں اور آپ ان کے نیچے ہیں، اور وہ آپ کے اور وحی کے درمیان ہیں، چنانچہ ابوایوب سو نہ سکے، اس ڈر سے کہ آپ پر گرد نہ گرے اور وہ حرکت کریں تو آپ کو تکلیف پہنچے۔ جب صبح ہوئی تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس صبح سویرے آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اور ام ایوب نے رات بھر آنکھ نہیں لگائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوایوب! اس کی کیا وجہ تھی؟“ انہوں نے عرض کیا: مجھے یاد آیا کہ میں گھر کی چھت پر ہوں اور آپ میرے نیچے ہیں، تو میں حرکت کرتا ہوں تو آپ پر گرد بکھرتی ہے، اور میری حرکت آپ کو تکلیف دیتی ہے، جبکہ میں آپ اور وحی کے درمیان ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوایوب! ایسا نہ کرو۔ کیا میں تمہیں کچھ کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تم انہیں صبح دس بار اور شام دس بار کہو تو تمہیں اس کے بدلے دس نیکیاں دی جائیں، تمہارے دس گناہ مٹا دیے جائیں، تمہارے دس درجے بلند کیے جائیں، اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہو جائیں؟ تم کہو: لا الہ الا اللہ لہ الملک ولہ الحمد لا شریک لہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اس کا کوئی شریک نہیں)۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3971
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 154، حدیث 3986