المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أفلح مولى أبي أيوب، عن أبي أيوب باب: افلح، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی اپنے آقا سے روایات
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ غُلَامِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ عَلَى أَبِي أَيُّوبَ فَأُنْزِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّفْلَ، وَنَزَلَ أَبُو أَيُّوبَ الْعُلُوَّ، فَلَمَّا أَمْسَى وَبَاتَ، فَجَعَلَ أَبُو أَيُّوبَ يَذْكُرُ أَنَّهُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ مِنْهُ، وَهُوَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْوَحْيِ، فَجَعَلَ أَبُو أَيُّوبَ لَا يَنَامُ يُحَاذِرُ أَنْ يَتَنَاثَرَ عَلَيْهِ الْغُبَارُ ويَتَحَرَّكُ فَيُؤْذِيَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا جَعَلْتُ اللَّيْلَةَ فِيهَا غَمْضًا أَنَا وَلَا أُمُّ أَيُّوبَ، قَالَ: «وَمِمَّ ذَاكَ يَا أَبَا أَيُّوبَ؟» ، قَالَ: ذَكَرْتُ أَنِّي عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ أَنْتَ أَسْفَلَ مِنِّي، فَأَتَحَرَّكُ فَيَتَنَاثَرُ عَلَيْكَ الْغُبَارُ، ويُؤْذِيكَ تَحْرِيكِي، وَأَنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْوَحْيِ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلْ يَا أَبَا أَيُّوبَ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ بِالْغَدَاةِ عَشْرَ مَرَّاتٍ وبِالْعَشِيِّ عَشْرَ مَرَّاتٍ أُعْطِيتَ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَكُفِّرَ لَكَ بِهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَكَ بِهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكُنَّ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَعِدْلِ عَشْرٍ مُحَرَّرِينَ، تَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ لَا شَرِيكَ لَهُ»سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: جب صبح ہوئی تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس صبح سویرے آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اور ام ایوب نے رات بھر آنکھ نہیں لگائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوایوب! اس کی کیا وجہ تھی؟“ انہوں نے عرض کیا: مجھے یاد آیا کہ میں گھر کی چھت پر ہوں اور آپ میرے نیچے ہیں، تو میں حرکت کرتا ہوں تو آپ پر گرد بکھرتی ہے، اور میری حرکت آپ کو تکلیف دیتی ہے، جبکہ میں آپ اور وحی کے درمیان ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوایوب! ایسا نہ کرو۔ کیا میں تمہیں کچھ کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تم انہیں صبح دس بار اور شام دس بار کہو تو تمہیں اس کے بدلے دس نیکیاں دی جائیں، تمہارے دس گناہ مٹا دیے جائیں، تمہارے دس درجے بلند کیے جائیں، اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہو جائیں؟ تم کہو: لا الہ الا اللہ لہ الملک ولہ الحمد لا شریک لہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اس کا کوئی شریک نہیں)۔“