حدیث نمبر: 3970
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَشْجَعِيُّ، ثنا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَفْلَحَ، مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ مَرَّ بِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ وَهُمَا قَاعِدَانِ عِنْدَ مَسْجِدِ الْجَنَائِزِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: تَذْكُرُ حَدِيثَنَا، حَدَّثَنَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَجْلِسِ الَّذِي نَحْنُ فِيهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، عَنِ الْمَدِينَةِ سَمِعْتُهُ وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُفْتَحُ فِيهِ فَتَحَاتُ الْأَرْضِ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهَا رِجَالٌ يُصِيبُونَ رَخَاءً وعَيْشًا وَطَعَامًا فَيَمُرُّونَ عَلَى إِخْوَانٍ لَهُمْ حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا فَيَقُولُونَ: مَا يُقِيمُكُمْ فِي لَأْوَاءِ الْعَيْشِ وَشِدَّةِ الْجُوعِ؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَذَاهِبٌ وَقَاعِدٌ - حَتَّى قَالَهَا مِرَارًا - وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَا يُثْبُتُ بِهَا أَحَدٌ فَيَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا، حَتَّى يَمُوتَ إِلَّا كُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا»
ترجمہ

سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کچھ لوگ (مدینہ چھوڑ کر) آسائش، بہتر زندگی اور رزق پاتے ہیں، پھر وہ اپنے حاجی یا عمرہ کرنے والے بھائیوں سے ملتے ہیں تو وہ ان سے کہتے ہیں: تمہیں مدینہ کی سختی اور شدید بھوک میں کیا چیز روکے رکھتی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی جانے والا ہے اور کوئی بیٹھا رہنے والا“ - آپ ﷺ نے یہ بات کئی بار دہرائی - ”اور مدینہ ان کے لیے بہتر ہے، کوئی شخص اس میں جم کر نہیں رہتا اور اس کی سختی اور مشکل پر صبر نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ مر جائے، مگر میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی بنوں گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3970
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 153، حدیث 3985