کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا خالد بن زید بن کلیب، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ، بدری صحابی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، يَقُولُ: «أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ»
ترجمہ
محمد بن عبداللہ بن نمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا نام خالد بن زید ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، فِي تَسْمِيَةِ " مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ عَوْفِ بْنِ غَنْمٍ: أَبُو أَيُّوبَ وَاسْمُهُ خَالِدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ كُلَيْبِ بْنِ ثَعْلَبَةَ "
ترجمہ
ابواسحاق رحمہ اللہ بدر میں شریک انصار کے ناموں کے ذکر میں، پھر بنو ثعلبہ بن عبدعوف بن غنم میں سے فرماتے ہیں: ابوایوب، جن کا نام خالد بن زید بن کلیب بن ثعلبہ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا هَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: «نَزَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ نَزَلَ عَلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے ہاں ٹھہرے، اور میں پہلا شخص تھا جس کے ہاں آپ ٹھہرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، قَالَ: غَزَا أَبُو أَيُّوبَ الرُّومَ فَمَرِضَ، فَلَمَّا حَضَرَ قَالَ: «إِذَا أَنَا مُتُّ فَاحْمِلُونِي، وَإِذَا صَافَفْتُمُ الْعَدُوَّ فَاحْمِلُونِي تَحْتَ أَقْدَامِكُمْ»
ترجمہ
ابوظبیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوایوب رضی اللہ عنہ نے روم میں جہاد کیا اور بیمار پڑ گئے، جب موت قریب آئی تو فرمایا: ”جب میں مر جاؤں تو مجھے اٹھا کر لے جانا، اور جب تم دشمن کے مقابل صف باندھو تو مجھے اپنے قدموں کے نیچے (دفن کر دینا)۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، يَقُولُ: «مَاتَ أَبُو الْأَنْصَارِيِّ فِي أَرْضِ الرُّومِ زَمَنَ مُعَاوِيَةَ»
ترجمہ
محمد بن عبداللہ بن نمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں سرزمین روم میں ہوئی۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَبُو أَيُّوبَ خَالِدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ كُلَيْبٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ»
ترجمہ
ابن شہاب رحمہ اللہ بدر میں شریک انصار کے ناموں کے ذکر میں فرماتے ہیں: ابوایوب، خالد بن زید بن کلیب، بنو نجار میں سے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ هِشَامٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ: «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي الْخَزْرَجِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ أَبُو أَيُّوبَ خَالِدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ كُلَيْبِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ عَوْفِ بْنِ غَنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ وَتُوُفِّي بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ مَعَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ سَنَةَ إِحْدَى وَخَمْسِينَ»
ترجمہ
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ بدر میں شریک انصار کے ناموں کے ذکر میں، پھر بنو خزرج، پھر بنو نجار میں سے فرماتے ہیں: ابوایوب، خالد بن زید بن کلیب بن ثعلبہ بن عبدعوف بن غنم بن مالک بن نجار، ان کی وفات قسطنطنیہ میں یزید بن معاویہ بن ابوسفیان کے ساتھ اکیاون ہجری میں ہوئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَدِينِيُّ فُسْتُقَةُ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: «هَلَكَ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ سَنَةَ خَمْسِينَ بِأَرْضِ الرُّومِ وَهُوَ غَازٍ مَعَ يَزِيدَ»
ترجمہ
ہیثم بن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال پچاس ہجری میں سرزمین روم میں ہوا جبکہ وہ یزید کے ساتھ جہاد میں تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي سِنَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: «قَدِمَ أَبُو أَيُّوبَ عَلَى مُعَاوِيَةَ رَحِمَهُمَا اللهُ فَشَكَى إِلَيْهِ أَنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا» - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ -
ترجمہ
حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوایوب رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے اپنے قرض کی شکایت کی - پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَعْرَسْتُ فِي عَهْدِ أَبِي فَأَذِنَ أَبِي النَّاسَ، وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ فِيمَنْ آذَنَّا وَقَدْ سَتَرُوا بَيْتِي بِبِجَادٍ أَخْضَرَ، فَأَقْبَلَ أَبُو أَيُّوبَ فَدَخَلَ فَرَآنِي قَائِمًا، فَاطَّلَعَ فَرَأَى الْبَيْتَ مُسْتَتِرًا بِبِجَادٍ أَخْضَرَ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ أَتَسْتُرُونَ الْجُدُرَ؟ قَالَ أَبِي واسْتَحْيَى: غَلَبْنَنَا النِّسَاءُ يَا أَبَا أَيُّوبَ، قَالَ: «مَنْ خَشِيَ أَنْ يَغْلِبَنَّهُ النِّسَاءُ فَلَمْ أَخْشَ أَنْ يَغْلِبَنَّكَ» ، ثُمَّ قَالَ: «لَا أَطْعَمُ لَكُمْ طَعَامًا وَلَا أَدْخَلُ لَكُمْ بَيْتًا» ثُمَّ خَرَجَ رَحِمَهُ اللهُ
ترجمہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کی زندگی میں شادی کی، تو میرے والد نے لوگوں کو دعوت دی، اور جنہیں ہم نے دعوت دی ان میں ابوایوب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ گھر والوں نے میرے گھر (کی دیواروں) کو ایک سبز چادر سے ڈھانپ رکھا تھا۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ آئے اور اندر داخل ہوئے تو مجھے کھڑا دیکھا، پھر انہوں نے جھانکا تو دیکھا کہ گھر ایک سبز چادر سے ڈھکا ہوا ہے، تو فرمایا: اے عبداللہ! کیا تم لوگ دیواروں کو پردے سے ڈھانپتے ہو؟ میرے والد نے شرماتے ہوئے کہا: اے ابوایوب! عورتیں ہم پر غالب آ گئیں۔ تو انہوں نے فرمایا: ”جس کے بارے میں مجھے اندیشہ تھا کہ عورتیں اس پر غالب آ جائیں گی، تمہارے بارے میں مجھے یہ اندیشہ نہ تھا کہ وہ تم پر غالب آ جائیں گی۔“ پھر فرمایا: ”میں تمہارا کھانا نہیں کھاؤں گا اور نہ تمہارے گھر میں داخل ہوں گا۔“ پھر وہ - اللہ ان پر رحم فرمائے - باہر نکل گئے۔