❮
❯
حدیث نمبر: 3838
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَعْرَسْتُ فِي عَهْدِ أَبِي فَأَذِنَ أَبِي النَّاسَ، وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ فِيمَنْ آذَنَّا وَقَدْ سَتَرُوا بَيْتِي بِبِجَادٍ أَخْضَرَ، فَأَقْبَلَ أَبُو أَيُّوبَ فَدَخَلَ فَرَآنِي قَائِمًا، فَاطَّلَعَ فَرَأَى الْبَيْتَ مُسْتَتِرًا بِبِجَادٍ أَخْضَرَ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ أَتَسْتُرُونَ الْجُدُرَ؟ قَالَ أَبِي واسْتَحْيَى: غَلَبْنَنَا النِّسَاءُ يَا أَبَا أَيُّوبَ، قَالَ: «مَنْ خَشِيَ أَنْ يَغْلِبَنَّهُ النِّسَاءُ فَلَمْ أَخْشَ أَنْ يَغْلِبَنَّكَ» ، ثُمَّ قَالَ: «لَا أَطْعَمُ لَكُمْ طَعَامًا وَلَا أَدْخَلُ لَكُمْ بَيْتًا» ثُمَّ خَرَجَ رَحِمَهُ اللهُ
ترجمہ

سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کی زندگی میں شادی کی، تو میرے والد نے لوگوں کو دعوت دی، اور جنہیں ہم نے دعوت دی ان میں ابوایوب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ گھر والوں نے میرے گھر (کی دیواروں) کو ایک سبز چادر سے ڈھانپ رکھا تھا۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ آئے اور اندر داخل ہوئے تو مجھے کھڑا دیکھا، پھر انہوں نے جھانکا تو دیکھا کہ گھر ایک سبز چادر سے ڈھکا ہوا ہے، تو فرمایا: اے عبداللہ! کیا تم لوگ دیواروں کو پردے سے ڈھانپتے ہو؟ میرے والد نے شرماتے ہوئے کہا: اے ابوایوب! عورتیں ہم پر غالب آ گئیں۔ تو انہوں نے فرمایا: ”جس کے بارے میں مجھے اندیشہ تھا کہ عورتیں اس پر غالب آ جائیں گی، تمہارے بارے میں مجھے یہ اندیشہ نہ تھا کہ وہ تم پر غالب آ جائیں گی۔“ پھر فرمایا: ”میں تمہارا کھانا نہیں کھاؤں گا اور نہ تمہارے گھر میں داخل ہوں گا۔“ پھر وہ - اللہ ان پر رحم فرمائے - باہر نکل گئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3838
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 118، حدیث 3853