کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: قیس بن ابی حازم کی سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى نَاسٍ مِنْ خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمُوا بِالسُّجُودِ، فَقَتَلَهُمْ فَوَدَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ الدِّيَةِ، ثُمَّ قَالَ: «أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ أَقَامَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ، لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا»
ترجمہ
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو خثعم قبیلے کے کچھ لوگوں کی طرف بھیجا، تو انہوں نے سجدہ کر کے اسلام ظاہر کرتے ہوئے بچنے کی کوشش کی، مگر خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ورثاء کو آدھی دیت ادا کی، پھر فرمایا: ”میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے ساتھ رہے، ان دونوں کی آگ ایک دوسرے کو نظر نہ آنی چاہیے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ زِيَادٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: رَأَيْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ يَرْمِي بَيْنَ هَدَفَيْنِ وَمَعَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَقَالَ: «أُمِرْنَا أَنْ نُعَلِّمَهُ أَوْلَادَنَا الرَّمْيَ وَالْقُرْآنَ»
ترجمہ
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے جنگ یرموک کے دن سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دو نشانوں کے درمیان تیر اندازی کرتے دیکھا، اور ان کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ تھے، انہوں نے فرمایا: ”ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنی اولاد کو تیر اندازی اور قرآن سکھائیں۔“