حدیث نمبر: 3821
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى نَاسٍ مِنْ خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمُوا بِالسُّجُودِ، فَقَتَلَهُمْ فَوَدَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ الدِّيَةِ، ثُمَّ قَالَ: «أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ أَقَامَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ، لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا»
ترجمہ

قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو خثعم قبیلے کے کچھ لوگوں کی طرف بھیجا، تو انہوں نے سجدہ کر کے اسلام ظاہر کرتے ہوئے بچنے کی کوشش کی، مگر خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ورثاء کو آدھی دیت ادا کی، پھر فرمایا: ”میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے ساتھ رہے، ان دونوں کی آگ ایک دوسرے کو نظر نہ آنی چاہیے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3821
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 114، حدیث 3836