حدیث نمبر: 3820
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ فَلَقِيتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ، فَأَقْبَلْتُ فَعَذَّمْتُهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُونِي إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ يَشْكُونِي أَقْبَلَتُ أَيْضًا عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تَرَى إِلَى مَا يَقُولُ وَأَنْتَ حَاضِرٌ؟ فَقَالَ: «مَهْلًا يَا خَالِدُ لَا تَقُلْ إِلَّا خَيْرًا، فَإِنَّهُ مَنْ يُبْغِضُ عَمَّارًا يُبْغِضْهُ اللهُ، وَمَنْ يُعَادِيهِ يُعَادِيهِ اللهُ» ، فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَاكَ جَعَلْتُ أَتَعَرَّضُ لِعَمَّارٍ حَتَّى لَقِيتُهُ، فَاعْتَذَرْتُ إِلَيْهِ وَسَالْتُ مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ عَلَيَّ
ترجمہ

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عمار کی طرف رخ کیا اور انہیں سخت سست کہا، تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس گئے اور میری شکایت کی، جب میں نے دیکھا کہ وہ میری شکایت کر رہے ہیں تو میں بھی ان کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نہیں دیکھتے وہ کیا کہہ رہا ہے جبکہ آپ موجود ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہرو اے خالد! خیر کے سوا کچھ مت کہو، بے شک جو عمار سے بغض رکھے اللہ اس سے بغض رکھے گا، اور جو اس سے دشمنی رکھے اللہ اس سے دشمنی رکھے گا۔“ جب میں نے یہ سنا تو میں عمار سے ملاقات کی کوشش کرنے لگا یہاں تک کہ ان سے ملا، تو میں نے ان سے معذرت کی اور جو کچھ ان کے دل میں میرے خلاف تھا اسے دور کر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3820
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 113، حدیث 3835