حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: أُذَكِّرُ اللهَ امْرَأً سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَنِينِ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ بَيْنَ جَارِتَيْنِ ـ يَعْنِي ضَرَّتَيْنِ، فَجَرَحَتْ أَوْ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ ظُّلَّتِها فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ مَا فِي بَطْنِهَا، «فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ» ، فَقَالَ عُمَرُ: اللهُ أَكْبَرُ لَوْ لَمْ نَسْمَعْ بِهَذَا مَا قَضَيْنَا بِغَيْرِهِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں اس شخص کو جس نے رسول اللہ ﷺ سے جنین کے بارے میں فیصلہ سنا ہو۔ تو حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے امیر المومنین! میں دو سوکنوں کے درمیان تھا، تو ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی چوب سے زخمی یا مارا جس سے وہ مر گئی اور اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا وہ بھی مر گیا۔ ”نبی کریم ﷺ نے جنین کے بارے میں ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ فرمایا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ اکبر! اگر ہم یہ حدیث نہ سنتے تو اس کے سوا کسی اور بات کا فیصلہ نہ کرتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْهُذَلِيِّ أَنَّهُ كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا أُخْرَى، فَتَغَايَرَتَا فَضَرَبَتِ الْهِلَالِيَّةُ الْعَامِرِيَّةَ بِعُودِ فُسْطَاطٍ لِي، فَطَرَحَتْ وَلَدًا مَيِّتًا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دُوهُ» ، فَجَاءَ وَلِيُّهَا فَقَالَ: أَنَدِي مَنْ لَا أَكَلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ: «رَجَزُ الْأَعْرَابِ نَعَمْ دُوهُ فِيهِ غُرَّةُ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٌ»
ترجمہ
ہذلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک بیوی تھی، تو انہوں نے اس پر ایک اور عورت سے نکاح کر لیا، تو ان دونوں میں رقابت پیدا ہو گئی، تو ہلالیہ نے عامریہ کو میرے خیمے کی ایک چوب سے مارا جس سے اس نے مردہ بچہ جن دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اس کی دیت ادا کرو۔“ تو اس (مارنے والی) عورت کا ولی آیا اور کہا: کیا میں اس کی دیت ادا کروں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ آواز نکالی؟ ایسے کا خون تو یونہی جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ بدوؤں کی مقفیٰ عبارت ہے؟ ہاں، اس کی دیت ادا کرو، اس میں ایک غلام یا لونڈی واجب ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الزُّهْرِيِّ التُّسْتَرِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ، عَنْ حَمَلِ بْنِ النَّابِغَةِ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ لِحْيَانِيَّةُ وَمُعَاوِيَّةٌ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ بْنِ زَيْدٍ وَأَنَّهُمَا اجْتَمَعَتَا فَتَغَايَرَتَا فَرَفَعَتِ الْمُعَاوِيَّةُ حَجَرًا فَرَمَتْ بِهِ اللِّحْيَانِيَّةَ وَهِي حُبْلَى وَقَدْ بَلَغَتْ فَقَتَلَتْهَا فَأَلْقَتْ غُلَامًا، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ مَالِكٍ لِعِمْرَانَ بْنِ عُوَيْمِرٍ: أَدِّ إِلَيَّ عَقْلَ امْرَأَتِي، فَارْتَفَعَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «الْعَقْلُ عَلَى الْعَصَبَةِ وَفِي السِّقْطِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ»
ترجمہ
ابوالملیح ہذلی رحمہ اللہ حمل بن نابغہ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کی دو بیویاں تھیں، لحیانیہ اور معاویہ، جو بنی معاویہ بن زید سے تھیں، اور وہ دونوں اکٹھی ہوئیں تو ایک دوسری پر حسد کرنے لگیں، تو معاویہ نے ایک پتھر اٹھا کر لحیانیہ کو مارا، جبکہ وہ حاملہ تھی اور اس کی مدت پوری ہو چکی تھی، تو اسے مار ڈالا اور اس نے ایک بچہ جن دیا۔ تو حمل بن مالک نے عمران بن عویمر سے کہا: میری بیوی کی دیت مجھے ادا کرو۔ چنانچہ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”دیت عصبہ پر ہے، اور ضائع ہونے والے بچے میں غرہ - ایک غلام یا لونڈی - واجب ہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، أَنَّ حَمَلَ بْنَ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ كَانَتْ: تَحْتَهُ ضَرَّتَانِ مُلَيْكَةُ وَأُمُّ عَفِيفٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا صَاحِبَتَهَا بِحَجَرٍ فَأَصَابَتْ قُبُلَهَا، فَأَلْفَتْ جَنِينًا مَيِّتًا وَمَاتَتْ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ دِيَتَهَا عَلَى قَوْمِ الْقَاتِلَةِ وَجَعَلَ فِي جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ أَوْ عِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ أَوْ مِائَةَ شَاةٍ، فَقَالَ وَلِيُّهَا: وَاللهِ يَا نَبِيَّ اللهِ مَا أَكَلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَسْنَا مِنْ أَسَاجِيعِ الْجَاهِلِيَّةِ فِي شَيْءٍ»
ترجمہ
ابوالملیح بن اسامہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حمل بن مالک بن نابغہ کی دو سوکنیں تھیں، ملیکہ اور ام عفیف، تو ان میں سے ایک نے اپنی ساتھی کو پتھر مارا جو اس کی شرمگاہ پر لگا، تو اس نے مردہ بچہ جن دیا اور خود بھی مر گئی۔ یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کے پاس لے جایا گیا، تو آپ ﷺ نے اس کی دیت قاتلہ کی قوم پر مقرر کی، اور اس کے جنین میں ایک غلام یا لونڈی یا بیس اونٹ یا سو بکریاں مقرر کیں۔ تو اس کے ولی نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی، اس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخ کر آواز نکالی، ایسے کا خون تو یونہی جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں جاہلیت کی مقفیٰ عبارتوں سے کوئی سروکار نہیں۔“