حدیث نمبر: 3470
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْهُذَلِيِّ أَنَّهُ كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا أُخْرَى، فَتَغَايَرَتَا فَضَرَبَتِ الْهِلَالِيَّةُ الْعَامِرِيَّةَ بِعُودِ فُسْطَاطٍ لِي، فَطَرَحَتْ وَلَدًا مَيِّتًا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دُوهُ» ، فَجَاءَ وَلِيُّهَا فَقَالَ: أَنَدِي مَنْ لَا أَكَلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ: «رَجَزُ الْأَعْرَابِ نَعَمْ دُوهُ فِيهِ غُرَّةُ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٌ»
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: …پھر وہ دونوں ایک دوسرے پر حسد کرنے لگیں، تو ہلالیہ نے عامریہ کو میرے خیمے کی ایک چوب سے مارا جس سے اس نے مردہ بچہ جن دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اس کی دیت ادا کرو۔“ تو اس بچے کا ولی آیا اور کہا: کیا میں اس کی دیت ادا کروں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ آواز نکالی؟ ایسے کا خون تو یونہی جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ بدوؤں کی مقفیٰ عبارت ہے؟ ہاں، اس کی دیت ادا کرو، اس میں ایک غلام یا لونڈی واجب ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3470
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 9، حدیث 3483