❮
❯
حدیث نمبر: 3472
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، أَنَّ حَمَلَ بْنَ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ كَانَتْ: تَحْتَهُ ضَرَّتَانِ مُلَيْكَةُ وَأُمُّ عَفِيفٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا صَاحِبَتَهَا بِحَجَرٍ فَأَصَابَتْ قُبُلَهَا، فَأَلْفَتْ جَنِينًا مَيِّتًا وَمَاتَتْ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ دِيَتَهَا عَلَى قَوْمِ الْقَاتِلَةِ وَجَعَلَ فِي جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ أَوْ عِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ أَوْ مِائَةَ شَاةٍ، فَقَالَ وَلِيُّهَا: وَاللهِ يَا نَبِيَّ اللهِ مَا أَكَلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَسْنَا مِنْ أَسَاجِيعِ الْجَاهِلِيَّةِ فِي شَيْءٍ»
ترجمہ

ابوالملیح بن اسامہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حمل بن مالک بن نابغہ کی دو سوکنیں تھیں، ملیکہ اور ام عفیف، تو ان میں سے ایک نے اپنی ساتھی کو پتھر مارا جو اس کی شرمگاہ پر لگا، تو اس نے مردہ بچہ جن دیا اور خود بھی مر گئی۔ یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کے پاس لے جایا گیا، تو آپ ﷺ نے اس کی دیت قاتلہ کی قوم پر مقرر کی، اور اس کے جنین میں ایک غلام یا لونڈی یا بیس اونٹ یا سو بکریاں مقرر کیں۔ تو اس کے ولی نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی، اس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخ کر آواز نکالی، ایسے کا خون تو یونہی جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں جاہلیت کی مقفیٰ عبارتوں سے کوئی سروکار نہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3472
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 9، حدیث 3485