کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: شہر بن حوشب کی سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: ١٠١] . قَالَ: فَنَحْنُ نَسْأَلُهُ إِذْ قَالَ: «إِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ بِقُرْبِهمْ ومَقْعَدِهِمْ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . قَالَ: وَفِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ أَعْرَابِيٌّ، فَقَامَ فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَرَمَى بِيَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: حَدِّثْنَا يَا رَسُولَ اللهِ عَنْهُمْ مَنْ هُمْ؟ قَالَ: فَرَأَيْتُ وَجْهَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَشِرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عِبَادٌ مِنْ عِبَادِ اللهِ مِنْ بُلْدَانٍ شَتَّى وَقَبَائِلَ مِنْ شُعُوبِ أَرْحَامِ الْقَبَائِلِ، لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمْ أَرْحَامٌ يَتَوَاصَلُونَ بِهَا لِلَّهِ، لَا دُنْيَا يَتَبَادَلُونَ بِهَا، يَتَحَابُّونَ بِرُوحِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، يَجْعَلُ اللهُ وُجُوهَهُمْ نُورًا، يَجْعَلُ لَهُمْ مَنَابِرَ مِنْ لُؤْلُؤٍ قُدَّامَ الرَّحْمَنِ تَعَالَى، يَفْزَعُ النَّاسُ وَلَا يَفْزَعُونَ، وَيَخَافُ النَّاسُ وَلَا يَخَافُونَ»
ترجمہ
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا کہ یہ آیت نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں“ [سورۃ المائدہ: 101]۔ وہ کہتے ہیں: ہم آپ ﷺ سے سوال کر ہی رہے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جو نہ نبی ہیں نہ شہید، مگر انبیاء اور شہداء قیامت کے دن اللہ عزوجل کے ہاں ان کے مقام اور ان کی نشست کی وجہ سے ان پر رشک کریں گے۔“ وہ کہتے ہیں: لوگوں میں ایک طرف ایک بدوی بیٹھا تھا، وہ اپنے گھٹنوں کے بل کھڑا ہوا اور اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ان کے بارے میں بتائیے، وہ کون ہیں؟ وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کا چہرہ مبارک کھل اٹھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ اللہ کے کچھ بندے ہیں جو مختلف شہروں اور مختلف قبائل کے رشتہ داروں میں سے ہیں، ان کے درمیان کوئی ایسی رشتہ داری نہیں تھی جس کی بنا پر وہ آپس میں جڑتے، اور نہ دنیا کا کوئی لین دین تھا، بلکہ وہ اللہ عزوجل کی روح کے ذریعے آپس میں محبت کرتے ہیں۔ اللہ ان کے چہروں کو نور بنا دے گا، رحمٰن تعالیٰ کے سامنے ان کے لیے موتی کے منبر رکھے گا، لوگ خوف زدہ ہوں گے مگر وہ خوف زدہ نہیں ہوں گے، اور لوگ ڈریں گے مگر وہ نہیں ڈریں گے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَمِرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عِبَادٌ لِلَّهِ تُوضَعُ لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ» . قَالُوا: فَمَنْ هُمْ؟ قَالَ: «الْمُتَحَابُّونَ فِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے کچھ بندے ہیں جن کے لیے قیامت کے دن نور کے منبر رکھے جائیں گے، وہ نہ نبی ہیں نہ شہید، مگر انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے۔“ صحابہ نے عرض کیا: وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لوگ جو اللہ عزوجل کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَّا قَدْ صَاحَبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ مَالِكٌ أَوْ أَبُو مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَقَدْ عَلِمْتُ أَقْوَامًا مَا هُمْ بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ كَأَنَّهُمْ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَقْوَامٌ مِنْ قَبَائِلَ شَتَّى يَتَحَابُّونَ فِي اللهِ»
ترجمہ
شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں: ہم میں ایک شخص تھا جس نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی تھی، اسے مالک یا ابومالک کہا جاتا تھا۔ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”مجھے کچھ ایسے لوگوں کا علم ہے جو نہ نبی ہیں نہ شہید، مگر انبیاء اور شہداء ان پر رشک کرتے ہیں گویا وہ اللہ عزوجل کے قریب ہیں، وہ مختلف قبیلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں جو اللہ کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى، فَأَقَامَ الرِّجَالَ يَلُونَهُ، وَأَقَامَ الصِّبْيَانَ خَلْفَ ذَلِكَ، وَأَقَامَ النِّسَاءَ خَلْفَ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھائی تو مردوں کو اپنے قریب کھڑا کیا، ان کے پیچھے بچوں کو کھڑا کیا، اور ان کے پیچھے عورتوں کو کھڑا کیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي كُلِّهِنَّ» ، يَعْنِي الْأَرْبَعَ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ
ترجمہ
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ظہر اور عصر کی چاروں رکعتوں میں قراءت کیا کرتے تھے۔