کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ، سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے چچا، بدری صحابی
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقِيتُ عَمِّي وَمَعَهُ رَايَةٌ، فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ فَقَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَقْتُلَهُ»
ترجمہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے چچا سیدنا حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ملا، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا، میں نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے، اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں اسے قتل کر دوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3391
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 277، حدیث 3404
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: مَرَّ بِي الْحَارِثُ بْنُ عَمْرٍو وَقَدْ عَقَدَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِلَى أَيْنَ بَعَثَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: «بَعَثَنِي إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ بَعْدَهُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ»
ترجمہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے پاس سے سیدنا حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ گزرے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں جھنڈا باندھ کر بھیجا تھا، تو میں نے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے آپ کو کہاں بھیجا ہے؟ انہوں نے کہا: ”مجھے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3392
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 277، حدیث 3405
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْوَكِيعِيُّ الْمِصْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ جَنَادٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقِيتُ عَمِّي وَقَدِ اعْتَقَدَ رَايَةً، فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ فَقَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَضْرِبُ عُنُقَهُ وَآخُذُ مَالَهُ» . وَهَكَذَا رَوَاهُ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ وَزَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقِيتُ عَمِّي. وَخَالَفَهُمَا السُّدِّيُّ، فَرَوَاهُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَقِيتُ خَالِي. وَخَالُهُ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ، وَلَمْ يُدْخِلْ بَيْنَ عَدِيٍّ وَالْبَرَاءِ يَزِيدَ
ترجمہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے چچا سے ملا، ان کے ساتھ ایک جھنڈا بندھا ہوا تھا، میں نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا مال لے لوں۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح اشعث بن سوار اور زید بن ابی انیسہ نے بھی عدی بن ثابت سے، انہوں نے یزید بن براء سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، جس میں وہ کہتے ہیں: میں اپنے چچا سے ملا۔ اور سدی نے ان دونوں کی مخالفت کی، انہوں نے عدی بن ثابت سے، براء سے روایت کی، جس میں وہ کہتے ہیں: میں اپنے ماموں سے ملا۔ اور ان کے ماموں ابوبردہ بن نیار تھے، اور اس روایت میں عدی اور براء کے درمیان یزید کو شامل نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3393
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 277، حدیث 3406
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ رَايَةٌ، فَقُلْتُ: أَيْنَ تَذْهَبُ؟ قَالَ: «أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ أَضْرِبُ عُنُقَهُ وَأَقْتُلُهُ»
ترجمہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے ماموں سے ملا، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا، میں نے پوچھا: کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اسے قتل کر دوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3394
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 278، حدیث 3407