کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: حزام بن حکیم بن حزام کی اپنے والد سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْوَكِيعِيُّ الْمِصْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ جَنَادٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللهِ وَالطَّاعَةِ لِأَزْوَاجِهِنِّ وَأَنْ يَتَصَدَّقْنَ، وَقَالَ: «وَإِنَّ مِنْكُنَّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ - وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ - وَجُلُّكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ» فَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَتُسَوِّفْنَ الْخَيْرَ»
ترجمہ
حزام بن حکیم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی کریم ﷺ نے عورتوں سے خطاب فرمایا، انہیں نصیحت کی اور اللہ سے ڈرنے، اپنے شوہروں کی اطاعت کرنے اور صدقہ دینے کا حکم دیا، اور فرمایا: ”تم میں سے کچھ ایسی بھی ہوں گی جو جنت میں داخل ہوں گی“ — اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ملا لیں — ”اور تمہاری اکثریت جہنم کا ایندھن ہوگی“ — اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں الگ الگ کر دیں۔ ایک عورت نے عرض کیا: کیوں، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیونکہ تم بہت لعن طعن کرتی ہو، اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی ہو، اور نیکی کرنے میں ٹال مٹول کرتی ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3096
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 196، حدیث 3109
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ طَعَامًا مِنْ طَعَامِ الصَّدَقَةِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَبِحْتُ فِيهِ قَبْلَ أَنْ أَسْتَوفِيَهُ، فَقُلْتُ: لَا أَبِيعُهُ حَتَّى أَسْأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ»
ترجمہ
…میں نے رسول اللہ ﷺ سے صدقے کے غلے میں سے کچھ غلہ خریدا، اور اسے وصول کرنے سے پہلے ہی اس میں نفع کما لیا، تو میں نے دل میں کہا: میں اسے اس وقت تک نہیں بیچوں گا جب تک اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے نہ پوچھ لوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اس وقت تک مت بیچو جب تک اسے قبضے میں نہ لے لو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3097
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 197، حدیث 3110
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ أَبُو أُمَيَّةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ صَدَقَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ فِي زَمَانٍ كَثِيرٍ فُقَهَاؤُهُ، قَلِيلٍ خُطَبَاؤُهُ، كَثِيرٍ مُعْطُوهُ، قَلِيلٍ سُؤَّالُهُ، الْعَمَلُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعِلْمِ، وَسَيَأْتِي زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ، كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ، كَثِيرٌ سُؤَّالُهُ، قَلِيلٌ مُعْطُوهُ، الْعِلْمُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعَمَلِ»
ترجمہ
حزام بن حکیم بن حزام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم ایسے زمانے میں ہو جس میں فقہاء زیادہ ہیں، خطیب کم ہیں، دینے والے زیادہ ہیں، مانگنے والے کم ہیں، اس میں عمل علم سے بہتر ہے۔ اور عنقریب ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں فقہاء کم ہوں گے، خطیب زیادہ ہوں گے، مانگنے والے زیادہ ہوں گے، دینے والے کم ہوں گے، اس میں علم عمل سے بہتر ہوگا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3098
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 197، حدیث 3111