کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ضحاک بن عبدالرحمن بن خالد بن حزام کی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ - قَالَ شُعَيْبٌ: ثنا اللَّيْثُ وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ حِزَامٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّهُ أَعَانَ بِفَرَسَيْنِ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأُصِيبَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ فَرَسَيَّ قَدْ أُصِيبَا، فعَوِّضْنِي. فَأَعْطَاهُ، فَاسْتَزَادَهُ فَزَادَهُ، ثُمَّ اسْتَزَادَهُ فَزَادَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ، وَالسَّائِلُ كَالْآكِلِ لَا يَشْبَعُ»
ترجمہ
ضحاک بن عبدالرحمٰن بن خالد بن حزام، حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے دونوں گھوڑے نقصان اٹھا چکے ہیں، مجھے اس کا معاوضہ دیں۔ آپ ﷺ نے انہیں دیا، انہوں نے مزید مانگا تو آپ نے مزید دیا، پھر مزید مانگا تو آپ نے مزید دیا۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ مال ایک سرسبز، میٹھا پھل ہے، جو لوگوں سے مانگے وہ اسے دے دیتے ہیں، اور سائل اس کھانے والے کی طرح ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنُ مِقْلَاصٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبِدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ حِزَامٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّهُ أَعَانَ بِفَرَسَيْنِ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأُصِيبَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أُصِيبَ فَرَسَايَ فَعُضْنِي. فَأَعْطَاهُ، ثُمَّ اسْتَزَادَهُ فَزَادَهُ، ثُمَّ اسْتَزَادَهُ، ثُمَّ قَالَ: «يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ، وَالسَّائِلُ فِيهَا كَالْآكِلِ لَا يَشْبَعُ»
ترجمہ
ضحاک بن عبدالرحمٰن بن خالد بن حزام، حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: میرے دونوں گھوڑے نقصان اٹھا چکے ہیں، مجھے اس کا معاوضہ دیں۔ آپ ﷺ نے انہیں دیا، پھر انہوں نے مزید مانگا تو آپ نے مزید دیا، پھر مزید مانگا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حکیم! یہ مال ایک سرسبز، میٹھا پھل ہے، جو لوگوں سے مانگے وہ اسے دے دیتے ہیں، اور سائل اس میں کھانے والے کی طرح ہے جو سیر نہیں ہوتا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ، وَالسَّائِلُ مِنْهَا كَالْآكِلِ وَلَا يَشْبَعُ»
ترجمہ
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”یہ مال سرسبز و شیریں ہے، جو شخص لوگوں سے سوال کرے تو وہ اسے دیتے ہیں، لیکن سوال کرنے والا اس مال سے ایسا ہے جیسے کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔“