حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ الدَّجَّالَ: «مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ»
ترجمہ
طارق بن شہاب، حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا، جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ»
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قرآن سات حرفوں (قراءتوں) پر نازل کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْعُمَيْرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَا: ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَكْذِبُونَ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ؛ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ؛ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ»
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے جو جھوٹ بولیں گے، تو جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، اور جو ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور وہ کل، اگر اللہ نے چاہا، میرے حوض پر آئے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو قَطَنٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ»
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا سَعْدٌ أَبُو غَيْلَانَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ الْفَاجِرُ فِي دِينِهِ، الْأَحْمَقُ فِي مَعِيشَتِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ الَّذِي قَدْ مَحَشَتْهُ النَّارُ بِذَنَبِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَغْفِرَنَّ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْفِرَةً يَتَطَاوَلُ لَهَا إِبْلِيسُ رَجَاءَ أَنْ تُصِيبَهُ»
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جنت میں وہ شخص بھی داخل ہوگا جو دین میں سست اور دنیوی معاملات میں بے وقوف ہو، اور قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جنت میں وہ شخص بھی داخل ہوگا جسے آگ نے اس کے گناہ کی وجہ سے جھلسا دیا ہو، اور قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ قیامت کے دن ایسی مغفرت فرمائے گا کہ ابلیس بھی گردن اٹھا کر دیکھے گا اس امید میں کہ شاید وہ بھی اسے مل جائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا جَدِّي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ قَذْفَ الْمُحْصَنَةِ يَهْدِمُ عَمَلَ مِائَةِ سَنَةٍ»
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پاکدامن عورت پر تہمت لگانا سو سال کی نیکیاں ڈھا دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، ثنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ، فَقَعَدَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ عُمَرُ: يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، أَيُّكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتْنَةَ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا. فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّكَ لَجَرِيءٌ. قَالَ: أَجْرَأُ مِنِّي مَنْ كَتَمَ عِلْمًا. قَالَ عُمَرُ: فَكَيْفَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ فِي مَالِ الرَّجُلِ فِتْنَةً، وَفِي زَوْجَتِهِ فِتْنَةً وَوَلَدِهِ. فَقَالَ عُمَرُ: لَمْ أَسْأَلْ عَنْ فِتْنَتِهِ الْخَاصَّةِ. فَقَالَ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَأْتِيكُمْ بَعْدِي فِتَنٌ كَمَوْجِ الْبَحْرِ يَدْفَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا. فَرَفَعَ يَدَهُ، فَقَالَ: اللهُمَّ لَا تُدْرِكْنِي. فَقَالَ حُذَيْفَةُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَخَفْ؛ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا. فَقَالَ عُمَرُ: أفَتْحًا يُفْتَحُ الْبَابُ أَوْ كَسْرًا؟ قَالَ حُذَيْفَةُ: كَسْرًا، ثُمَّ لَا يُغْلَقُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. فَقَالَ عُمَرُ: ذَاكَ شَرٌّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ "
ترجمہ
ربعی بن حراش بیان کرتے ہیں: میں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے محمد ﷺ کے صحابہ! تم میں سے کس نے رسول اللہ ﷺ کو فتنے کا ذکر کرتے سنا ہے؟ حذیفہ نے کہا: میں نے۔ عمر نے فرمایا: تم بڑے دلیر ہو۔ حذیفہ نے کہا: مجھ سے زیادہ دلیر وہ ہے جو علم چھپائے۔ عمر نے پوچھا: پھر تم نے کیسے سنا؟ حذیفہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”آدمی کے مال میں فتنہ ہے، اس کی بیوی اور اولاد میں فتنہ ہے۔“ عمر نے فرمایا: میں نے اس کے اپنے خاص فتنے کے بارے میں نہیں پوچھا۔ حذیفہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میرے بعد تم پر ایسے فتنے آئیں گے جیسے سمندر کی موجیں ایک دوسرے کو دھکیلتی ہیں۔“ عمر نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور کہا: اے اللہ! مجھے اس تک نہ پہنچائیو۔ حذیفہ نے کہا: اے امیر المومنین! خوف نہ کریں، آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ حائل ہے۔ عمر نے پوچھا: کیا وہ دروازہ کھولا جائے گا یا توڑا جائے گا؟ حذیفہ نے کہا: توڑا جائے گا، پھر وہ قیامت تک بند نہیں ہوگا۔ عمر نے فرمایا: تو یہ اس امت کے لیے بڑا شر ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَلِيٍّ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أُعْطِيتُ خَوَاتِمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ»
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سورۃ البقرہ کی آخری آیات عرش کے نیچے موجود خزانے میں سے عطا کی گئی ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَذُوعِيُّ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، قَالَا: ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ , وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ فِي أُمَّتِي دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ سَبْعَةٌ وَعِشْرُونَ، مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ نِسْوَةٍ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي»
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں ستائیس بڑے جھوٹے دجال (جھوٹے مدعیانِ نبوت) پیدا ہوں گے، جن میں سے چار عورتیں ہوں گی، اور میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَمِّي سَعِيدُ بْنُ عِيسَى بْنِ تَلِيدٍ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْمَكِّيِّ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فِي الْعَزْلِ، فَسَمِعَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ تَفْعَلُونَهُ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: أَوَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَخْلُقْ نَسَمَةً هُوَ بَارِيهَا إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ؟ "
ترجمہ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ عزل (نطفہ باہر گرانے) کے بارے میں باتیں کر رہے تھے، رسول اللہ ﷺ نے یہ سن لیا، تو آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم یہ کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ عزوجل جس جان کو پیدا کرنے والا ہو وہ ضرور پیدا ہو کر رہتی ہے؟“