المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن مسند حذيفة رضي الله عنه باب: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی مسند سے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، ثنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ، فَقَعَدَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ عُمَرُ: يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، أَيُّكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتْنَةَ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا. فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّكَ لَجَرِيءٌ. قَالَ: أَجْرَأُ مِنِّي مَنْ كَتَمَ عِلْمًا. قَالَ عُمَرُ: فَكَيْفَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ فِي مَالِ الرَّجُلِ فِتْنَةً، وَفِي زَوْجَتِهِ فِتْنَةً وَوَلَدِهِ. فَقَالَ عُمَرُ: لَمْ أَسْأَلْ عَنْ فِتْنَتِهِ الْخَاصَّةِ. فَقَالَ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَأْتِيكُمْ بَعْدِي فِتَنٌ كَمَوْجِ الْبَحْرِ يَدْفَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا. فَرَفَعَ يَدَهُ، فَقَالَ: اللهُمَّ لَا تُدْرِكْنِي. فَقَالَ حُذَيْفَةُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَخَفْ؛ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا. فَقَالَ عُمَرُ: أفَتْحًا يُفْتَحُ الْبَابُ أَوْ كَسْرًا؟ قَالَ حُذَيْفَةُ: كَسْرًا، ثُمَّ لَا يُغْلَقُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. فَقَالَ عُمَرُ: ذَاكَ شَرٌّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ "ربعی بن حراش بیان کرتے ہیں: میں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے محمد ﷺ کے صحابہ! تم میں سے کس نے رسول اللہ ﷺ کو فتنے کا ذکر کرتے سنا ہے؟ حذیفہ نے کہا: میں نے۔ عمر نے فرمایا: تم بڑے دلیر ہو۔ حذیفہ نے کہا: مجھ سے زیادہ دلیر وہ ہے جو علم چھپائے۔ عمر نے پوچھا: پھر تم نے کیسے سنا؟ حذیفہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”آدمی کے مال میں فتنہ ہے، اس کی بیوی اور اولاد میں فتنہ ہے۔“ عمر نے فرمایا: میں نے اس کے اپنے خاص فتنے کے بارے میں نہیں پوچھا۔ حذیفہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میرے بعد تم پر ایسے فتنے آئیں گے جیسے سمندر کی موجیں ایک دوسرے کو دھکیلتی ہیں۔“ عمر نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور کہا: اے اللہ! مجھے اس تک نہ پہنچائیو۔ حذیفہ نے کہا: اے امیر المومنین! خوف نہ کریں، آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ حائل ہے۔ عمر نے پوچھا: کیا وہ دروازہ کھولا جائے گا یا توڑا جائے گا؟ حذیفہ نے کہا: توڑا جائے گا، پھر وہ قیامت تک بند نہیں ہوگا۔ عمر نے فرمایا: تو یہ اس امت کے لیے بڑا شر ہے۔