حدیث نمبر: 3011
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، ثنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ، فَقَعَدَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ عُمَرُ: يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، أَيُّكُمْ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْفِتْنَةَ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا. فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّكَ لَجَرِيءٌ. قَالَ: أَجْرَأُ مِنِّي مَنْ كَتَمَ عِلْمًا. قَالَ عُمَرُ: فَكَيْفَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ فِي مَالِ الرَّجُلِ فِتْنَةً، وَفِي زَوْجَتِهِ فِتْنَةً وَوَلَدِهِ. فَقَالَ عُمَرُ: لَمْ أَسْأَلْ عَنْ فِتْنَتِهِ الْخَاصَّةِ. فَقَالَ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَأْتِيكُمْ بَعْدِي فِتَنٌ كَمَوْجِ الْبَحْرِ يَدْفَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا. فَرَفَعَ يَدَهُ، فَقَالَ: اللهُمَّ لَا تُدْرِكْنِي. فَقَالَ حُذَيْفَةُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَخَفْ؛ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا. فَقَالَ عُمَرُ: أفَتْحًا يُفْتَحُ الْبَابُ أَوْ كَسْرًا؟ قَالَ حُذَيْفَةُ: كَسْرًا، ثُمَّ لَا يُغْلَقُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. فَقَالَ عُمَرُ: ذَاكَ شَرٌّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ "
ترجمہ

ربعی بن حراش بیان کرتے ہیں: میں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے محمد ﷺ کے صحابہ! تم میں سے کس نے رسول اللہ ﷺ کو فتنے کا ذکر کرتے سنا ہے؟ حذیفہ نے کہا: میں نے۔ عمر نے فرمایا: تم بڑے دلیر ہو۔ حذیفہ نے کہا: مجھ سے زیادہ دلیر وہ ہے جو علم چھپائے۔ عمر نے پوچھا: پھر تم نے کیسے سنا؟ حذیفہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”آدمی کے مال میں فتنہ ہے، اس کی بیوی اور اولاد میں فتنہ ہے۔“ عمر نے فرمایا: میں نے اس کے اپنے خاص فتنے کے بارے میں نہیں پوچھا۔ حذیفہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میرے بعد تم پر ایسے فتنے آئیں گے جیسے سمندر کی موجیں ایک دوسرے کو دھکیلتی ہیں۔“ عمر نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور کہا: اے اللہ! مجھے اس تک نہ پہنچائیو۔ حذیفہ نے کہا: اے امیر المومنین! خوف نہ کریں، آپ کے اور اس فتنے کے درمیان ایک بند دروازہ حائل ہے۔ عمر نے پوچھا: کیا وہ دروازہ کھولا جائے گا یا توڑا جائے گا؟ حذیفہ نے کہا: توڑا جائے گا، پھر وہ قیامت تک بند نہیں ہوگا۔ عمر نے فرمایا: تو یہ اس امت کے لیے بڑا شر ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3011
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 169، حدیث 3024