حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ حُذَافَةَ الْأَزْدِيِّ، عَنْ جُنَادَةَ الْأَزْدِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَزْدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَدَعَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقُلْنَا: إِنَّا صِيَامٌ، فَقَالَ: «صُمْتُمْ أَمْسِ؟» قُلْنَا: لَا قَالَ: «فَتَصُومُونَ غَدًا؟» قُلْنَا: لَا، قَالَ: «فَأَفْطِرُوا» ثُمَّ قَالَ: «لَا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ مُفْرَدًا»
ترجمہ
راوی کہتے ہیں: میں ازد کے کچھ لوگوں کے ساتھ جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اپنے سامنے موجود کھانے کی دعوت دی، ہم نے کہا: ہم روزے سے ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟“ ہم نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا کل روزہ رکھو گے؟“ ہم نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو روزہ افطار کر لو۔“ پھر فرمایا: ”جمعہ کے دن اکیلا روزہ نہ رکھو۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ حُذَافَةَ الْأَزْدِيِّ، عَنْ جُنَادَةَ الْأَزْدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا جنادہ ازدی رضی اللہ عنہ سے، نبی کریم ﷺ سے، اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبَ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ حُذَيْفَةَ الْأَزْدِيِّ، عَنْ جُنَادَةَ الْأَزْدِيِّ، أَنَّهُمْ وَلَجُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ ثَمَانِيَةُ رَهْطٍ هُوَ ثَامِنُهُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ: «كُلْ» فَقَالَ: صَائِمٌ، قَالَ لِآخَرَ: «كُلْ» فَقَالَ: صَائِمٌ حَتَّى سَأَلَهُمْ جَمِيعًا، فَقَالَ: «صُمْتُمْ أَمْسِ؟» فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: «أَصُيَّامٌ غَدًا؟» قَالُوا: لَا «فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا»
ترجمہ
راوی کہتے ہیں: وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آٹھ افراد کی صورت میں حاضر ہوئے، وہ ان کا آٹھواں تھا، یہ جمعہ کے دن کی بات تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے کھانا منگوایا اور ایک آدمی سے فرمایا: ”کھاؤ۔“ اس نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ دوسرے سے فرمایا: ”کھاؤ۔“ اس نے بھی کہا: روزے سے ہوں، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے سب سے پوچھ لیا، تو فرمایا: ”کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا کل روزہ رکھو گے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے انہیں روزہ افطار کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ حُذَيْفَةَ الْبَارِقِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ الْأَزْدِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُمْ دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ نَفَرٍ هُوَ ثَامِنُهُمْ فَقَرَّبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، فَقَالَ: «كُلُوا» فَقَالُوا: صِيَامٌ، فَقَالَ: «أَصُمْتُمْ أَمْسِ؟» ، قَالُوا: لَا قَالَ: «أَفَصَائِمُونَ أَنْتُمْ غَدًا؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَأَفْطِرُوا»
ترجمہ
راوی کہتے ہیں: وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آٹھ افراد کی صورت میں حاضر ہوئے، وہ ان کا آٹھواں تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن ان کے سامنے کھانا رکھا اور فرمایا: ”کھاؤ۔“ انہوں نے کہا: ہم روزے سے ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا کل روزہ رکھو گے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو روزہ افطار کر لو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حَبِيبٍ يَحْيَى بْنُ نَافِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْيَسَعِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّ جُنَادَةَ الْأَزْدِيَّ أَمَّ قَوْمًا، فَلَمَّا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَالَ: أَتَرْضَوْنَ، قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ عَنْ يَسَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ فَإِنَّ صَلَاتَهُ لَا تُجَاوِزُ تَرْقُوَتَهُ»
ترجمہ
راوی کہتے ہیں: جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو اپنی دائیں جانب متوجہ ہو کر پوچھا: کیا تم راضی ہو؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ پھر بائیں جانب بھی ایسا ہی کیا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو کسی قوم کی امامت کرے جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں، تو اس کی نماز اس کے حلق سے آگے نہیں بڑھتی۔“