حدیث نمبر: 2162
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبَ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ حُذَيْفَةَ الْأَزْدِيِّ، عَنْ جُنَادَةَ الْأَزْدِيِّ، أَنَّهُمْ وَلَجُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ ثَمَانِيَةُ رَهْطٍ هُوَ ثَامِنُهُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ: «كُلْ» فَقَالَ: صَائِمٌ، قَالَ لِآخَرَ: «كُلْ» فَقَالَ: صَائِمٌ حَتَّى سَأَلَهُمْ جَمِيعًا، فَقَالَ: «صُمْتُمْ أَمْسِ؟» فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: «أَصُيَّامٌ غَدًا؟» قَالُوا: لَا «فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا»
ترجمہ

راوی کہتے ہیں: وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آٹھ افراد کی صورت میں حاضر ہوئے، وہ ان کا آٹھواں تھا، یہ جمعہ کے دن کی بات تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے کھانا منگوایا اور ایک آدمی سے فرمایا: ”کھاؤ۔“ اس نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ دوسرے سے فرمایا: ”کھاؤ۔“ اس نے بھی کہا: روزے سے ہوں، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے سب سے پوچھ لیا، تو فرمایا: ”کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا کل روزہ رکھو گے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے انہیں روزہ افطار کرنے کا حکم دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2162
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 281، حدیث 2175