المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 2160–2164) باب: (احادیث 2160 تا 2164)
حدیث نمبر: 2164
حَدَّثَنَا أَبُو حَبِيبٍ يَحْيَى بْنُ نَافِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْيَسَعِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّ جُنَادَةَ الْأَزْدِيَّ أَمَّ قَوْمًا، فَلَمَّا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَالَ: أَتَرْضَوْنَ، قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ عَنْ يَسَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ فَإِنَّ صَلَاتَهُ لَا تُجَاوِزُ تَرْقُوَتَهُ»ترجمہ
ابو عبدالرحمن صنعانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جنادہ ازدی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی امامت کی، جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو اپنی دائیں جانب متوجہ ہو کر پوچھا: کیا تم راضی ہو؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ پھر بائیں جانب بھی ایسا ہی کیا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو کسی قوم کی امامت کرے جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں، تو اس کی نماز اس کی ہنسلی سے آگے نہیں بڑھتی۔“