کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا جاریہ بن ظفر حنفی رضی اللہ عنہ، کنیت ابونمران
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانٍ، ثنا نِمْرَانُ بْنُ جَارِيَةَ الْحَنَفِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اخْتَصَمَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ فِي خُصٍّ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُذَيْفَةَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ فَقَضَى لِلَّذِي يَلِيهِمُ الْقِمْطُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَّرَهُ، فَقَالَ: «أَصَبْتَ أَوْ أَحْسَنْتَ»
ترجمہ
سیدنا جاریہ بن ظفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: …رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے اس شخص کے حق میں فیصلہ دیا جس کی طرف چھت کی رسیوں کی گرہیں تھیں۔ جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس واپس آئے اور آپ ﷺ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے درست کیا“، یا ”تم نے اچھا کیا۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى جَارِيَةَ بْنِ ظُفُرَ، عَنْ جَارِيَةَ بْنِ ظُفُرَ، أَنَّ أَخَوَيْنِ كَانَ بَيْنَهُمَا حِظَارٌ وَسَطَ دَارٍ فَمَاتَا وَتَرَكَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَقِبًا، فَادَّعَى عَقِبُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَّ الْحِظَارَ لَهُ دُونَ صَاحِبِهِ، فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ مَعَهُمَا حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، فَقَضَى بِالْحِظَارِ لِمَنْ وَجَدَ مَعَاقِدَ الْقِمْطِ تَلِيهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: «أَصَبْتَ أَوْ أَحْسَنْتَ»
ترجمہ
سیدنا جاریہ بن ظفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: …آپ ﷺ نے ان دونوں کے ساتھ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا، تو انہوں نے باڑ کا فیصلہ اس شخص کے حق میں دیا جس کی طرف رسیوں کی گرہیں تھیں، پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس واپس آئے اور آپ ﷺ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے درست کیا“، یا ”تم نے اچھا کیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانٍ، ثنا نِمْرَانُ بْنُ جَارِيَةَ الْحَنَفِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ضَرَبَ رَجُلٌ رَجُلًا بِالسَّيْفِ عَلَى سَاعِدِهِ عَلَى غَيْرِ مَفْصِلٍ فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى لَهُ بِالدِّيَةِ وَأَرَادَ الْمَضْرُوبُ الْقِصَاصَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا» وَلَمْ يَقْضِ لَهُ بِالْقِصَاصِ
ترجمہ
سیدنا جاریہ بن ظفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: …ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو تلوار سے اس کے بازو پر، جوڑ کے علاوہ جگہ پر، مارا، تو زخمی نے نبی کریم ﷺ کے پاس فریاد کی، آپ ﷺ نے دیت کا فیصلہ دیا، مگر زخمی قصاص چاہتا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہارے لیے اس میں برکت دے“، اور اسے قصاص نہیں دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانٍ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا قَطَعَ يَدَ رَجُلٍ مِنْ نِصْفِ الذِّرَاعِ فَخَاصَمَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى لَهُ بِخَمْسَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ وَقَالَ: «خُذْهَا بُورِكَ لَكَ فِيهَا»
ترجمہ
نمران بن جاریہ اپنے والد سیدنا جاریہ بن ظفر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کا ہاتھ کہنی کے آدھے حصے سے کاٹ دیا، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر آیا، آپ ﷺ نے اسے پانچ ہزار درہم دلوائے اور فرمایا: ”یہ لے لو، اللہ تمہارے لیے اس میں برکت دے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ دَهْثَمٍ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا لِلرَّأْسِ مَاءً جَدِيدًا»
ترجمہ
سیدنا جاریہ بن ظفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سر کے مسح کے لیے نیا پانی لو۔“