المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جارية بن ظفر أبو نمران الحنفي باب: سیدنا جاریہ بن ظفر حنفی رضی اللہ عنہ، کنیت ابونمران
حدیث نمبر: 2076
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانٍ، ثنا نِمْرَانُ بْنُ جَارِيَةَ الْحَنَفِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ضَرَبَ رَجُلٌ رَجُلًا بِالسَّيْفِ عَلَى سَاعِدِهِ عَلَى غَيْرِ مَفْصِلٍ فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى لَهُ بِالدِّيَةِ وَأَرَادَ الْمَضْرُوبُ الْقِصَاصَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا» وَلَمْ يَقْضِ لَهُ بِالْقِصَاصِترجمہ
سیدنا جاریہ بن ظفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: …ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو تلوار سے اس کے بازو پر، جوڑ کے علاوہ جگہ پر، مارا، تو زخمی نے نبی کریم ﷺ کے پاس فریاد کی، آپ ﷺ نے دیت کا فیصلہ دیا، مگر زخمی قصاص چاہتا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہارے لیے اس میں برکت دے“، اور اسے قصاص نہیں دیا۔