حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ فَلَا يَتَكَلَّمُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ خِطْبَةً أُخْرَى، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ قَاعِدًا فَقَدْ كَذَبَ»
ترجمہ
سماک بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ”میں نے نبی کریم ﷺ کو جمعہ کے دن کھڑے ہوکر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ ﷺ بیٹھ جاتے اور کوئی بات نہ کرتے، پھر کھڑے ہوکر دوسرا خطبہ دیتے، تو جو تمہیں یہ بتائے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیٹھ کر خطبہ دیا تھا تو اس نے جھوٹ کہا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ، ثُمَّ يُمْهِلُ فَلَا يُقِيمُ حَتَّى إِذَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ»
ترجمہ
سماک، سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کا مؤذن اذان دیتا، پھر مہلت دیتا اور اقامت نہ کہتا یہاں تک کہ جب وہ نبی کریم ﷺ کو نکلتے دیکھتا تو انہیں دیکھتے ہی اقامت کہہ دیتا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى لِغَدَاةٍ قَعَدَ فِي مَجْلِسِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»
ترجمہ
سماک بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ”رسول اللہ ﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی جگہ بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كَنَحْوٍ مِنْ صَلَاتِكُمُ الَّتِي تُصَلُّونَ الْيَوْمَ، وَلَكِنَّهُ كَانَ يُخَفِّفُ كَانَتْ صَلَاتُهُ أَخَفَّ مِنْ صَلَاتِكُمْ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ الْوَاقِعَةَ وَنَحْوَهَا مِنَ السُّوَرِ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نمازیں تقریباً اسی طرح پڑھتے تھے جیسے تم آج پڑھتے ہو، لیکن آپ ﷺ تخفیف کرتے تھے، آپ ﷺ کی نماز تمہاری نماز سے ہلکی ہوتی تھی، آپ ﷺ فجر میں سورۃ الواقعہ اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَفْتَحَنَّ رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كُنُوزَ كِسْرَى»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں کی ایک جماعت ضرور کسریٰ کے خزانے فتح کرے گی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَثَّ الشَّعْرِ وَاللِّحْيَةِ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھنے بالوں اور گھنی داڑھی والے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٍ قَصِيرٍ فِي إِزَارٍ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَكَلَّمَهُ، وَمَا أَدْرِي مَا يُكَلِّمُهُ وَأَنَا بَعِيدٌ مِنْهُ، وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ الْقَوْمُ، فَقَالَ: «اذْهَبُوا بِهِ» ، ثُمَّ قَالَ: «رُدُّوهُ» فَكَلَّمَهُ وَأَنَا أَسْمَعُ غَيْرَ أَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْقَوْمَ، ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ» ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ وَأَنَا أَسْمَعُهُ، فَقَالَ: «كُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللهِ خَلَّفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ مِنَ اللَّبَنِ، وَاللهِ لَا أَقْدَمُ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا نَكَّلْتُ بِهِ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس ماعز بن مالک کو لایا گیا، وہ ایک پستہ قد آدمی تھا، تہبند باندھے ہوئے تھا، اوپر چادر نہیں تھی۔ آپ ﷺ نے اس سے بات کی، مجھے نہیں معلوم آپ ﷺ نے اس سے کیا کہا کیونکہ میں دور تھا اور میرے اور اس کے درمیان لوگ حائل تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ“، پھر فرمایا: ”اسے واپس لاؤ“، تو آپ ﷺ نے اس سے (دوبارہ) بات کی اور میں سن رہا تھا، البتہ میرے اور اس کے درمیان لوگ حائل تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور رجم کر دو۔“ پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، اور میں سن رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب بھی ہم اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) نکلتے ہیں تو ہم میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اور بکرے کی سی آواز نکالتا ہے (یعنی فحش کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے)، وہ کسی عورت کو دودھ کا تھوڑا سا پیالہ دے دیتا ہے (اسے پھسلانے کے لیے)، اللہ کی قسم! میں جس پر بھی ایسا ثابت کروں گا اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ يُشْبِهُ جِلْدَهُ»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے (نبوت کی) مہر آپ ﷺ کے کندھے کے پاس دیکھی، وہ کبوتر کے انڈے کے برابر تھی اور آپ ﷺ کی جلد ہی جیسی تھی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ: «أَنَّهُمْ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ عَنْ يَسَارِهِ»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ ﷺ اپنے بائیں جانب ایک تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ح وَثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ مَاتَ فُلَانٌ قَالَ: «لَمْ يَمُتْ» ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ مَاتَ؟» قَالَ: نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ كَانَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی فوت ہو گیا، تو ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں شخص فوت ہو گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نہیں مرا۔“ پھر وہ دوسری بار آیا، پھر تیسری بار آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیسے مرا؟“ اس نے کہا: اس نے اپنے پاس موجود تیر کے پھل سے خود کو ذبح کر لیا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «مَا كَانَ فِي رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِحْيَتِهِ مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا شَعَرَاتٍ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ، إِذَا سَرَّحَ لِحْيَتَهُ ودَهَنَ تَبَيَّنَ، وَإِذَا تَرَكَهَا لَمْ يَتَبَيَّنْ»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے سر اور داڑھی میں صرف چند بال سفید تھے، وہ سر کے بیچ کی مانگ میں تھے، جب آپ ﷺ داڑھی میں کنگھی کرتے اور تیل لگاتے تو وہ نمایاں ہو جاتے، اور جب چھوڑ دیتے تو نمایاں نہ ہوتے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبْرَحُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس کی خاطر لڑتی رہے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا» ثُمَّ تَكَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَسَأَلْتُ الْقَوْمَ، فَقَالُوا: «كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میرے بعد بارہ امیر ہوں گے“، پھر آپ ﷺ نے کچھ ایسی بات فرمائی جو میں سمجھ نہ سکا، تو میں نے لوگوں سے پوچھا، انہوں نے بتایا: آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”وہ سب قریش میں سے ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَفٌ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «مَاتَ جَمَلٌ بِالْحَرَّةِ وَإِلَى جَنْبِهِ قَوْمٌ مُحْتَاجُونَ، فَرَخَّصَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهِ»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: حرہ کے مقام پر ایک اونٹ مر گیا اور اس کے قریب کچھ حاجت مند لوگ تھے، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں اسے کھانے کی اجازت دے دی۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَجَعَلَ يَنْتَهِرُ شَيْئًا قُدَّامَهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ سَأَلْنَاهُ، فَقَالَ: «ذَاكَ شَيْطَانٌ أَلْقَى عَلَى قَدَمِي شَرَرًا مِنَ النَّارِ لِيَفْتِنَنِي عَنِ الصَّلَاةِ وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَنِيطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَطِيفَ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی، اور آپ ﷺ اپنے سامنے کسی چیز کو جھڑکنے لگے۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک شیطان تھا، اس نے میرے پاؤں پر آگ کا انگارہ پھینکا تھا تاکہ مجھے نماز سے ہٹا دے، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون سے باندھ دیتا، یہاں تک کہ مدینے کے بچے اسے دیکھنے کے لیے اس کے گرد جمع ہو جاتے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: قِيلَ لِجَابِرٍ: أَكَانَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ السَّيْفِ؟ قَالَ: «لَا بَلْ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ کا چہرہ تلوار کی طرح (لمبوترا) تھا؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ سورج اور چاند کی طرح (گول اور روشن) تھا۔“