حدیث نمبر: 1904
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٍ قَصِيرٍ فِي إِزَارٍ مَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَكَلَّمَهُ، وَمَا أَدْرِي مَا يُكَلِّمُهُ وَأَنَا بَعِيدٌ مِنْهُ، وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ الْقَوْمُ، فَقَالَ: «اذْهَبُوا بِهِ» ، ثُمَّ قَالَ: «رُدُّوهُ» فَكَلَّمَهُ وَأَنَا أَسْمَعُ غَيْرَ أَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْقَوْمَ، ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ» ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ وَأَنَا أَسْمَعُهُ، فَقَالَ: «كُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللهِ خَلَّفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ مِنَ اللَّبَنِ، وَاللهِ لَا أَقْدَمُ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا نَكَّلْتُ بِهِ»
ترجمہ

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس ماعز بن مالک کو لایا گیا، وہ ایک پستہ قد آدمی تھا، تہبند باندھے ہوئے تھا، اوپر چادر نہیں تھی۔ آپ ﷺ نے اس سے بات کی، مجھے نہیں معلوم آپ ﷺ نے اس سے کیا کہا کیونکہ میں دور تھا اور میرے اور اس کے درمیان لوگ حائل تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ“، پھر فرمایا: ”اسے واپس لاؤ“، تو آپ ﷺ نے اس سے (دوبارہ) بات کی اور میں سن رہا تھا، البتہ میرے اور اس کے درمیان لوگ حائل تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور رجم کر دو۔“ پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، اور میں سن رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب بھی ہم اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) نکلتے ہیں تو ہم میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اور بکرے کی سی آواز نکالتا ہے (یعنی فحش کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے)، وہ کسی عورت کو دودھ کا تھوڑا سا پیالہ دے دیتا ہے (اسے پھسلانے کے لیے)، اللہ کی قسم! میں جس پر بھی ایسا ثابت کروں گا اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1904
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 222، حدیث 1917