المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
إسرائيل بن يونس، عن سماك باب: اسرائیل بن یونس کی سماک سے روایات
حدیث نمبر: 1907
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ح وَثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ مَاتَ فُلَانٌ قَالَ: «لَمْ يَمُتْ» ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ مَاتَ؟» قَالَ: نَحَرَ نَفْسَهُ بِمِشْقَصٍ كَانَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی فوت ہو گیا، تو ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں شخص فوت ہو گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نہیں مرا۔“ پھر وہ دوسری بار آیا، پھر تیسری بار آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیسے مرا؟“ اس نے کہا: اس نے اپنے پاس موجود تیر کے پھل سے خود کو ذبح کر لیا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔