کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا ثابت بن ودیعہ انصاری رضی اللہ عنہ، اور ثابت بن زید بن ودیعہ بن خذام بھی کہا جاتا ہے، اور ثابت بن زید بھی، کنیت ابوسعد
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُتِيَ بِضَبٍّ فَقَالَ: «أُمَّةٌ مُسِخَتْ، وَاللهُ أَعْلَمُ»
ترجمہ
سیدنا ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں گوہ (ایک قسم کا چھپکلی نما جانور) لائی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک ایسی امت ہے جس کی صورت مسخ کر دی گئی تھی، اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1350
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 80، حدیث 1363
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1351
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 80، حدیث 1364
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِضِبَابٍ قَدِ احْتَرَشَهَا فَجَعَلَ يُقَلِّبُ ضَبًّا مِنْهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: «أُمَّةٌ مُسِخَتْ» ، وَأَكْبَرُ عِلْمِي، أَنَّهُ قَالَ: «مَا أَدْرِي مَا فَعَلَتْ، وَمَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا»
ترجمہ
ایک شخص جو بنو فزارہ سے تھا، نبی کریم ﷺ کے پاس گوہیں لے کر آیا جو اس نے پکڑی تھیں، آپ ﷺ ان میں سے ایک گوہ کو اپنے سامنے الٹ پلٹ کرنے لگے، پھر فرمایا: ”یہ ایک ایسی امت ہے جس کی صورت مسخ کر دی گئی تھی“، اور میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا ہوا، اور نہیں معلوم شاید یہ بھی اسی میں سے ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1352
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 81، حدیث 1365
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ متويهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يَمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُتِيَ بِضَبٍّ قَدْ شُوِيَ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودًا، فَجَعَلَ يَعُدُّ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ قَالَ: «أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي، أَيَّ دَوَابَّ هِيَ» ، فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ، وَلَمْ يَنْهُ عَنْهُ
ترجمہ
سیدنا ثابت بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک بھنی ہوئی گوہ لائی گئی، آپ ﷺ نے ایک لکڑی پکڑ کر اپنی انگلیوں پر گننا شروع کیا، پھر فرمایا: ”بنی اسرائیل کی ایک امت زمین کے چوپاؤں میں مسخ کر دی گئی تھی، اور مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سا چوپایہ ہے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اس میں سے کچھ نہیں کھایا اور اس سے منع بھی نہیں فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1353
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 81، حدیث 1366
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَصَابَ النَّاسُ ضِبَابًا فاشَّوَوْهَا، فَأَكَلُوهَا، فَأَصَبْتُ مِنْهَا ضَبًّا فَشَوَيْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ، فَأَخَذَ جَرِيدَةً فَجَعَلَ يَعُدُّ بِهَا أَصَابِعَهُ، فَقَالَ: «إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ، وَإِنِّي أَرَاهَا لَعَلَّهَا هِيَ» فَقُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَوَوْهَا، وأَكَلُوها، فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَنْهَ
ترجمہ
سیدنا ثابت بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں کو کچھ گوہیں ملیں تو انہوں نے انہیں بھونا اور کھایا، مجھے بھی ان میں سے ایک گوہ ملی تو میں نے اسے بھونا، پھر نبی کریم ﷺ کے پاس لے کر آیا۔ آپ ﷺ نے ایک شاخ لے کر اس سے اپنی انگلیاں گننا شروع کیں، پھر فرمایا: ”بنی اسرائیل کی ایک امت زمین کے چوپاؤں میں مسخ کر دی گئی تھی، اور میں دیکھتا ہوں کہ شاید یہی وہ ہو۔“ میں نے عرض کیا: لوگوں نے تو اسے بھون کر کھا لیا ہے۔ آپ ﷺ نے نہ اسے کھایا اور نہ منع فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1354
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 81، حدیث 1367