المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثابت بن وديعة الأنصاري ويقال ثابت بن زيد بن وديعة بن خذام ويقال ثابت بن زيد يكنى أبا سعد باب: سیدنا ثابت بن ودیعہ انصاری رضی اللہ عنہ، اور ثابت بن زید بن ودیعہ بن خذام بھی کہا جاتا ہے، اور ثابت بن زید بھی، کنیت ابوسعد
حدیث نمبر: 1354
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَصَابَ النَّاسُ ضِبَابًا فاشَّوَوْهَا، فَأَكَلُوهَا، فَأَصَبْتُ مِنْهَا ضَبًّا فَشَوَيْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ، فَأَخَذَ جَرِيدَةً فَجَعَلَ يَعُدُّ بِهَا أَصَابِعَهُ، فَقَالَ: «إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ، وَإِنِّي أَرَاهَا لَعَلَّهَا هِيَ» فَقُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَوَوْهَا، وأَكَلُوها، فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَنْهَترجمہ
سیدنا ثابت بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں کو کچھ گوہیں ملیں تو انہوں نے انہیں بھونا اور کھایا، مجھے بھی ان میں سے ایک گوہ ملی تو میں نے اسے بھونا، پھر نبی کریم ﷺ کے پاس لے کر آیا۔ آپ ﷺ نے ایک شاخ لے کر اس سے اپنی انگلیاں گننا شروع کیں، پھر فرمایا: ”بنی اسرائیل کی ایک امت زمین کے چوپاؤں میں مسخ کر دی گئی تھی، اور میں دیکھتا ہوں کہ شاید یہی وہ ہو۔“ میں نے عرض کیا: لوگوں نے تو اسے بھون کر کھا لیا ہے۔ آپ ﷺ نے نہ اسے کھایا اور نہ منع فرمایا۔