کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا بشر بن براء بن معرور انصاری رضی اللہ عنہ، عقبی و بدری صحابی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ: «فِي تَسْمِيَةِ أَصْحَابِ الْعَقَبَةِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَقَبَةِ مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جُشَمِ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا»
ترجمہ
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”عقبہ میں رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے والے انصار میں سے، پھر بنی سلمہ بن یزید بن جُشَم میں سے، بشر بن براء بن معرور تھے، اور وہ بدر میں بھی شریک تھے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: «فِيمَنْ شَهِدَ الْعَقَبَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، وَهُوَ الَّذِي أَكَلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الشَّاةَ الَّتِي سُمَّ فِيهَا يَوْمَ خَيْبَرَ»
ترجمہ
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”عقبہ میں شریک ہونے والے انصار میں سے، پھر بنی سلمہ میں سے، بشر بن براء بن معرور تھے، وہی وہ شخص ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وہ بکری کھائی تھی جس میں خیبر کے دن زہر ملایا گیا تھا۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: «فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عُبَيْدِ بْنِ عَدِيٍّ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ»
ترجمہ
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”بدر میں شریک ہونے والے انصار میں سے، پھر بنی عبید بن عدی میں سے، بشر بن براء بن معرور تھے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ يَهُودِيَّةَ أَهْدَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَصْلِيَّةً، فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ: «أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ» ، فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ مِنْهَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: «مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ؟» ، قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ، وَإِنْ كُنْتَ مَلِكًا أَرَحْتُ النَّاسَ مِنْكَ، فَأَمَرَ بِهَا فَقُتِلَتْ
ترجمہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نے نبی کریم ﷺ کو بھنی ہوئی بکری کا گوشت ہدیہ کیا، تو آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا، پھر فرمایا: ”اس نے مجھے بتایا کہ اس میں زہر ملایا گیا تھا“ تو بشر بن براء رضی اللہ عنہ اس کی وجہ سے انتقال کر گئے، تو آپ ﷺ نے اس عورت کو بلوایا اور فرمایا: ”تجھے یہ کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ اس نے کہا: میں نے یہ جاننا چاہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو یہ آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اگر آپ بادشاہ ہیں تو میں لوگوں کو آپ سے راحت دلا دوں گی، تو آپ ﷺ نے حکم دیا تو اسے قتل کر دیا گیا۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا، سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَيِّدُكُمْ يَا بَنِي عُبَيْدٍ؟» ، قَالُوا: الْجَدُّ بْنُ قَيْسٍ عَلَى أَنَّ فِيهِ بُخْلًا، قَالَ: «فَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ، بَلْ سَيِّدُكُمْ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنُ مَعْرُورٍ»
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنی عبید! تمہارا سردار کون ہے؟“ انہوں نے کہا: جدّ بن قیس، اگرچہ اس میں بخل ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بخل سے بڑھ کر کون سی بیماری ہے، بلکہ تمہارا سردار بشر بن براء بن معرور ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ مِنْهُمْ، أَهْدَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْيَهُودِيَّةُ وَهِي بِنْتُ أَخِي مَرْحَبٍ شَاةً مَصْلِيَّةً، وسَمَّتْهُ فِيهَا وَأَكْثَرَتْ فِي الْكَتِفِ، وَالذِّرَاعِ حِينَ أُخْبِرَتْ أَنَّهَا أَحَبُّ أَعْضَاءِ الشَّاةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ أَخُو بَنِي سَلِمَةَ، قَدَّمَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَاوَلَ الْكَتِفَ، وَالذِّرَاعَ فَانْتَهَسَ مِنْهَا، وَتَنَاوَلَ بِشْرُ عَظْمًا آخَرَ فَانْتَهَسَ مِنْهُ، فَلَمَّا أَدْغَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَدْغَمَ بِشْرٌ مَا فِي فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ فَإِنَّ كَتِفَ الشَّاةِ تُخْبِرُنِي، أَنْ قَدْ بُغِيَتْ فِيهَا» ، فَقَالَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ، لَقَدْ وَجَدْتُ ذَلِكَ فِي أُكْلَتِي الَّتِي أَكَلْتُ، فَإِنْ مَنَعَنِي أَنْ أَلْفُظَها إِلَّا أَنِّي كَرِهْت أَنْ أُنَغِّصَ طَعَامَكَ، فَلَمَّا أَكَلْتَ مَا فِي فِيكَ لَمْ أَرْغَبْ بِنَفْسِي عَنْ نَفْسِكَ، وَرَجَوْتُ أَنْ لَا يَكُونَ أَدْغَمْتُها، وَفِيهَا بَغْيٌ، فَلَمْ يَقُمْ بِشْرٌ مِنْ مَكَانِهِ، حَتَّى عَادَ لَوْنُهُ كالطَّيْلَسانِ، وماطَلَهُ وَجَعُهُ مِنْهُ، حَتَّى كَانَ مَا يَتَحَوَّلُ إِلَّا مَا حُوِّلَ، وَبَقِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ ثَلَاثِ سِنِينَ حَتَّى كَانَ وَجَعُهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ
ترجمہ
…اور دستی (کا گوشت) لے کر اس میں سے کاٹا، اور بشر رضی اللہ عنہ نے ایک اور ہڈی لے کر اس میں سے کاٹا، تو جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے منہ کا لقمہ نگل لیا تو بشر رضی اللہ عنہ نے بھی جو ان کے منہ میں تھا نگل لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ہاتھ روک لو، کیونکہ بکری کا شانہ مجھے بتا رہا ہے کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے“ تو بشر بن براء رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت دی، میں نے یہ اپنے اس لقمے میں محسوس کیا جو میں نے کھایا، تو مجھے اسے تھوک دینے سے صرف اس بات نے روکا کہ میں نے یہ ناپسند کیا کہ آپ کا کھانا خراب کر دوں، پھر جب آپ ﷺ نے وہ نگل لیا جو آپ کے منہ میں تھا تو میں نے بھی اپنے آپ کو آپ سے الگ نہ رکھا، اور مجھے امید تھی کہ جو میں نے نگلا ہے شاید اس میں زہر نہ ہو، تو بشر رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے نہ اٹھے یہاں تک کہ ان کا رنگ چادر جیسا (زرد) ہو گیا، اور ان کی بیماری انہیں مسلسل ستاتی رہی یہاں تک کہ ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہ آئی سوائے اس کے کہ جو تبدیل ہوا، اور رسول اللہ ﷺ اس کے بعد تین سال زندہ رہے یہاں تک کہ وہی بیماری ہوئی جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی۔